نوح میوات :(عامر حسین میواتی)
فیروز پور جھرکہ واقع عائشہ کالونی متصل دہلی الور شاہراہ عام پر میوات کے نامور علماء کرام کی جانب سے ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔یہ میٹنگ ضلع جمعیۃ علماء ہند میوات کے صدر الحاج محمد رمضان کی صدارت میں منعقد ہوئی۔
میٹنگ کے ترجمان مولانا محمد صابر قاسمی نے میٹنگ میں میوات کے علمائے کرام کے ذریعے سے لیے گئے فیصلے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آج میوات کے ممتاز علمائے کرام کے ذریعے سرکار کی جانب سے لڑکی کی شادی کی عمر 21 سال کرنے کے سلسلے میں ایک اہم میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔
شادی کس عمر میں ہونی چاہیے، اس کے لیے کوئی اصول عمر کا معیار نہیں بنایا جا سکتا، اس موقع پر مولانا ڈاکٹر رفیق آزاد مولانا صابر قاسمی نے کہا کہ اس کا تعلق صحت سے بھی ہے اور معاشرے میں اخلاقی اقدار کی حفاظت کے ساتھ ساتھ معاشرے کو بے حیائی سے بھی بچانا ہے، اس لیے نہ صرف اسلام بلکہ دیگر مذاہب میں بھی عمر اور وقت کی کوئی پابندی نہیں ہے۔
نکاح کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا ہے، اسی لیے ایسے معاملات کو مذہب کے پیروکاروں کی صوابدید پر رکھا گیا ہے کہ، انہوں نے کہا کہ اگر کوئی لڑکا یا لڑکی 21 سال سے پہلے شادی کی ضرورت محسوس کرے اور شادی کے بعد اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے قابل ہو تو اسے شادی سے روکنا۔ ظلم ہے اور بالغ فرد کی آزادی میں مداخلت ہے، اس سے معاشرے میں جرم جنم لے سکتا ہے، مولانا قاسمی نے کہا کہ شادی کی کم از کم عمر 18 سال یا 21 سال مقرر کرنا اور اس سے پہلے شادی کو خلاف قانون قرار دینا۔ایسا کرنا نہ تو لڑکیوں کے مفاد میں ہے اور نہ ہی کسی معاشرے کے، لیکن اس سے اخلاقی اقدار کو نقصان پہنچ سکتا ہے،مولانا صابر قاسمی نے کہا کہ موجودہ دور کی شعوری رفتار کے ساتھ کم عمری میں شادی کرنے کا رواج تیزی کے ساتھ میواتی معاشرے میں کم ہوتا جارہا ہے۔ لیکن کچھ حالات ایسے بھی آتے ہیں کہ مقررہ عمر سے پہلے شادی کرنا لڑکی کے مفاد میں ہوتا ہے، اس لیے جمعیۃ علماء ہند میوات کے عہدیدار حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسے بے فائدہ، اور نقصان دہ قوانین متعارف کراکر ،بنانے سے کلی طور پر گریز کرے۔
شرکاء میٹنگ میں شامل ضلع صدر نوح، الحاج محمد رمضان، مولانا حکیم الدین اشرف اٹاؤڑی ،مولانا محمد صابر قاسمی سابق ناظم اعلیٰ جمعیۃ علماء ہند گروگرام ،نوح میوات مولانا عثمان روپڑکا صدر جمعیۃ علماء پلول، مولانا ڈاکٹر رفیق آزاد، نے شرکت کی۔









