کوچی: (ایجنسی)
کیرالہ ہائی کورٹ نے منگل کو کہا کہ تھانوں میں خاص طور سے جیل میں بربریت تبھی روکے گی ، جب وہاں سی سی ٹی وی کیمرے کام کررہےہوں گے۔ ہائی کورٹ نے ایک شخص کی درخواست پر سماعت کے دوران یہ بات کہی۔ دراصل اس شخص نے درخواست میں الزام لگایا تھا کہ انہیں زنجیروں کے سہارے ریلنگ سےباندھ دیاگیاتھا اور جب انہوں نے اپنی شکایت کی کاپی مانگی تب ان پر ڈیوٹی پر تعینات افسر کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا گیا۔
عدالت نے کہا، ’’کیا آپ (پولیس) کو یہ کہتے ہوئے شرم نہیں آتی کہ پولیس اسٹیشن کے اندر جانے والے ایک شخص نے ایک افسر کو اپنی ڈیوٹی انجام دینے سے روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا؟‘‘
جسٹس دیوان رامچندرن نے کہا، ’یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ شکایت کرنے آنے والے ایک شہری کو ریلنگ سے جکڑا گیا اور پھر اس پر کیرالہ پولیس ایکٹ کی دفعہ 117 (E) کے تحت ایک پولیس افسر پر اپنے فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگایا گیا۔
عدالت نے کہا، ’’اس طرح کا سلوک 18ویں صدی کے تھانے میں ہوا کرتا تھا نہ کہ 21ویں صدی میں۔‘‘ جج نے کہا کہ عدالت کی پولیس کو سرزنش کرنے کے باوجود پولیس کی بربریت کے واقعات اب بھی ہو رہے ہیں۔سماعت کے دوران جج نے کہا کہ یہ تشویشناک بات ہے کہ اب پولیس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کا انتظار کر رہی ہے۔
عدالت نے کہا، ‘میں اس کی اجازت نہیں دوں گا کیونکہ پولیس اور ریاست ملزم افسران کو اس طرح تحفظ دے رہے ہیں کہ وہ قانون سے نہیں ڈرتے۔عدالت نے کہا، ‘اگر آپ چاہتے ہیں کہ افسران قانون سے ڈریں۔ پھر ایسے معاملات میں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔










