ہری دوار:(ایجنسی)
ہری دوار میں تین دن تک جاری رہنے والی دھرم سنسد میں مسلمانوں کےخلاف نفرت انگیز،اشتعال انگیز بیانات دئیے گئے۔ دھرم سنسد میں سادھو -سنتوں کے ساتھ ساتھ ہی ہندو تنظیموں سے وابستہ لوگوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس پروگرام میں بی جے پی لیڈر اشونی اپادھیائے اور ادیتا تیاگی بھی موجود تھے۔
ہندو رکشا سینا کے صدر سوامی پربودھانند گری نے دھرم سنسد میں کہا کہ ہمیں تیاری کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میانمار میں ہندوؤں کا قتل کیا گیا۔ دہلی کے بارڈر پر بھی ہندوؤں کا قتل ہوا۔ اب زیادہ وقت نہیں بچا ہے۔ یہ تو آپ بھی مرنے کے لیے مرنے کے لیے تیار ہو جائیں یا ھر مارنے کے لیے اور اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیںہے۔ انہوں نے کہاکہ میانمار کی طرح یہاں بھی ہر ہندو کو ہتھیار اٹھا لیناچاہئے اورصفائی ابھیان شروع کردینا چاہئے۔
یوگی کے ساتھ تصویر

پربودھانند گری نے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ساتھ اپنی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے۔ اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت میں وہ کابینہ کے وزیر دھن سنگھ راوت اور سابق وزیر اعلیٰ تیرتھ سنگھ راوت کے ساتھ بھی تصویر کھنچوا چکے ہیں۔ پربودھانند گری اس سے قبل بھی کئی بار مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کر چکے ہیں جن میں ہندوؤں کو8 بچوں کو جنم دینا بھی شامل ہے۔
پچھلے چند مہینوں میں یہ ایک اور واقعہ ہے، جس میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کو فروغ دیا گیا ہے۔ اس سے قبل تریپورہ میں مساجد میں آتش زنی کا واقعہ پیش آیا تھا، پارلیمنٹ سے کچھ فاصلے پر جنتر منتر پر مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے تھے۔
ہندو تنظیموں کے لوگوں نے گڑگاؤں اور دہلی کے دوارکا میں حج ہاؤس اور کھلے میں جمعہ کی نماز کی بھی مخالفت کررہے ہیں۔
دھرم سنسد میں مہامدلیشورسادھوی اناپورنا عرف پوجا شکون پانڈے نے بھی اشتعال انگیز بیانات دیئے۔ انہوں نے کہا کہ ہتھیاروں کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں اور اگر آپ ان کی آبادی کو تباہ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مار ڈالو۔ سادھوی نے کہا کہ مارنے اور جیل جانے کے لیے تیار رہو۔ اگر ہم میں سے 100 بھی اپنے 20 لاکھ لوگوں کو مارنے کے لیے تیار ہو جائیں تو ہم جیت جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہندوتوا کے تحفظ کے لیے کسی بھی قیمت پر ہتھیار اٹھائیں گی۔
مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیان دینے والے یتی نرسمہانند سرسوتی نے اس پروگرام میں کہا کہ زیادہ سے زیادہ بچے اور بہترین ہتھیار ہی ہندوؤں کو بچا سکتے ہیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ان لوگوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد بھی کوئی پولیس، کوئی عدالتی نظام انہیں جیلوں میں ڈالنے کے لیے آگے نہیں آیا۔ یہ پروگرام بی جے پی کی حکومت والی ریاست میں ہوا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے وہاں کی حکومت کو اس تقریب کا انعقاد کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ لیکن گزشتہ چند سالوں میں جس طرح سے سخت گیر ہندو تنظیموں کے لوگ نفرت انگیز تقاریر کر رہے ہیں اور بعض جگہوں پر ان کے خلاف تھوڑی بہت کارروائی ہوئی ہے، اس سے لگتا ہے کہ کوئی ان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکے گا۔
جنونی ہندو تنظیموں کی یہ نفرت نہ صرف مسلمانوں کے خلاف ہے بلکہ وہ ان لوگوں کے خلاف بھی ہے جو ہندوؤں میں اپنے خیالات سے مختلف ہیں اور عیسائیوں کے خلاف بھی۔










