کولکاتا :(ایجنسی)
حکومت ہند ایک بار پھر مدر ٹریسا کی مشنریز آف چیریٹی تنظیم کے حوالے سے تنازعات میں گھرگئی ہے۔ عین کرسمس والے دن، پورے ملک میں مشنریز آف چیریٹیز کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے۔
ستیہ ہندی ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق بینک کھاتوں کو منجمد کرنے کی اطلاع آج سامنے آئی، لیکن کولکاتا کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مشنریوں کے لوگوں کو یہ اطلاع کل ہی مل گئی تھی۔
مشنریز آف چیریٹیز تنظیم ملک بھر میں بڑی تعداد میں اسپتال اور سینٹر چلاتی ہے، جہاں ہزاروں غریبوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔ انہیں وہاں مفت کھانا دیا جاتا ہے۔ بینک اکاؤنٹس بند ہونے کی وجہ سے ملک بھر میں اس ادارے کے تقریباً 22000 ہزار مریض اور ملازمین مشکلات میں گھر گئے ہیں۔ مریضوں کو دوائیں ملنا بند ہوگئیں۔ ان کے علاج میں بہت سے مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔
ہر روز تنظیم کو ادویات، اناج اور تنخواہ وغیرہ دینے کے لیے رقم کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اب تنظیم کے پاس یہ کام کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ٹویٹ کرکے اس معاملے کی سخت مذمت کی ہے۔
ادارے کے کھاتوں کو منجمد کرنے کی خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دائیں بازو کی تنظیمیں کئی گرجا گھروں پر حملوں کی وجہ سے متنازع بن چکی ہیں۔ کل امبالہ میں عیسیٰ مسیح کا مجسمہ توڑدی گئی۔ ملک میں کئی مقامات پر مسیحی دعائیہ اجتماعات میں خلل ڈالی گی۔
دائیں بازو کی تنظیموں کے اس اقدام کو یوپی سمیت 5 ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے لیے ہندو ووٹروں کے پولرائزیشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ملک بھر میں بہت سے لوگ مسلمانوں اور مسیحی برادریوں پر حملوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے مشنریز آف چیریٹیز کے حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کسی نے فون نہیں اٹھایا۔مشنریوں کے زیادہ تر اکاؤنٹس کولکاتا میں ہیں۔
دائیں بازو کی تنظیمیں اس ادارے پر علاج اور کھانا کھلانے کی آڑ میں مذہب تبدیل کرنے کا الزام لگاتی رہی ہیں۔ وزارت داخلہ کئی بار اس ادارے کو نوٹس جاری کر چکی ہے، اب جب کہ اکاؤنٹس منجمد ہو چکے ہیں اور ملک بھر میں اس کی مذمت شروع ہو گئی ہے، وزارت داخلہ نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ابھی تک مرکزی حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے۔
کئی ریاستوں میں پولیس اور دیگر تفتیشی ایجنسیاں مشنریز آف چیریٹیز کی تحقیقات کررہی ہیں۔ 14 دسمبر کو گجرات کی وڈودرا پولیس نے تنظیم کے خلاف تحقیقات شروع کیں۔
گجرات کے وڈودرا میں مشنریز آف چیریٹیز کے دفتر پر 13 دسمبر کو چھاپہ مارا گیا۔ وڈودرا کے سوشل ویلفیئر آفیسر میانک تریویدی نے پولیس کو رپورٹ بھیجی کہ انہیں ادارے کی لائبریری میں عیسائیوں کی مذہبی کتاب بائبل کی 13 کاپیاں ملی ہیں۔ وہاں لڑکیوں کو زبردستی بائبل پڑھائی جا رہی تھی اور ان کے گلے میں زبردستی صلیب پہنائی جا رہی تھی۔ پولیس نے 14 دسمبر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ گجرات میں مشنریز آف چیریٹی کے دفاتر کی چھان بین کرے گی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا ان کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔










