نئی دہلی:(ایجنسی)
نیا سال عام لوگوں کے لیے مہنگائی کی کئی ملٹی پل ڈوز لےکر آرہاہے۔ یکم جنوری سے کئی چیزیں سروسیز پر ٹیکس ( جی ایس ٹی) بڑھنے والے ہیں۔ ابھی تک ٹیکس کے دائرے سے باہر رہیں کچھ چیزیں اورسروسیز کو بھی اب قابل ٹیکس بنا دیا گیاہے۔ یہ تبدیلی ویسے لوگوںکی جیبوں پر بھاری پڑنے والی ہے، جواولا(Ola) ایا اوبر (Uber)جیسے ایپ بیسٹ کیب سروس پرووائیڈر کی خدمات یوز کرتے ہیں ۔
نئے سال میں لاگو ہوں گے جی ایس ٹی کونسل کے یہ فیصلے
جی ایس ٹی کونسل نے پچھلی میٹنگ میں ٹیکس سے متعلق کچھ بڑے فیصلے لیے۔ ان میں 1000 روپے سے کم کے ریڈی میڈ کپڑوں اورجوتوںپر جی ایس ٹی کی شرح پانچ فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کرنا اورآن لائن فوڈ آرڈر پر اب ریستوان کےبجان ڈیلیوری سروس پرووائیڈر سےہی ٹیکس وصول کرنا شامل ہے ۔ اس کےعلاوہ اب ایپ بیسڈ کیب سروس پرووائیڈر کےذریعہ سے بک کئے گئےآٹو کے کرایے پر بھی جی ایس ٹی لگنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔
چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ گورو آریہ نے بتایا کہ اب تک ریڈیو ٹیکسی پر جی ایس ٹی لگ رہاتھا۔ میٹراورجی پی ایس سے چلنےوالی ٹیکس اس کےدائرہ کار میں آتی تھی ۔اولا اور اوبر جیسے ایگریگیٹرز کی کیب سروسز بھی اس کے دائرہ کار میں تھیں، لیکن ان کے ذریعے بک کیے گئے آٹو کرایوں کو اب تک جی ایس ٹی کے دائرے سے باہر رکھا گیا تھا۔
آف لائن آٹو ابھی تک ٹیکسبل نہیں
جی ایس ٹی کونسل کے اس فیصلے سے عام آٹو کے کرایہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ یہ اب بھی جی ایس ٹی کے دائرے سے باہر رکھے گئے ہیں۔ سی اے گورو نے کہا کہ حکومت ایپ سے آٹو بک کروانے والے مسافروں کو پریمیم زمرہ میں شمار کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اب ایپ پر مبنی آٹوز کو بھی ایپ پر مبنی کیب کے ساتھ جی ایس ٹی کے دائرے میں لایا جا رہا ہے۔
آٹو ڈرائیوروں کی من مانی بڑھ سکتی ہے
حکومت کے اس فیصلے سے عام لوگوں پر بوجھ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ اب تک مسافر آٹو ڈرائیوروں کی من مانی سے بچنے کے لیے آن لائن بکنگ کو ترجیح دیتے تھے۔ اب یہ سہولت پانچ فیصد مہنگی ہونے جا رہی ہے۔ اس تبدیلی کے بعد آف لائن آٹو بکنگ بھی مہنگی ہو سکتی ہے۔ آن لائن آٹو بکنگ پر ٹیکس عائد کرنے کے بعدآٹو ڈرائیور اب آف لائن بکنگ میں زیادہ کرایوں کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔










