نئی دہلی:( |ایجنسی)
چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمن نے کہا ہے کہ اگر کسی ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے تو وہاں لاقانونیت کا راج ہے۔ لوگوں کو قانون کی حکمرانی کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔چیف جسٹس روٹری کلب آف وجے واڑہ کے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ پروگرام میں جمہوریت میں قانون کی حکمرانی کی اہمیت پر بات کر رہے تھے۔
سی جے آئی نے کہا کہ قانون کی حکمرانی جمہوریت کے لیے بنیادی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ وکلاء، ججز اور دیگر لوگوں کو اس کی اہمیت سے آگاہ کریں۔ سی جے آئی رمن نے آئین کے آرٹیکل 21 اور 19 کی اہمیت کے بارے میں بھی بتایا۔ سی جے آئی نے کہا، ’آرٹیکل21 اور آرٹیکل 19 آئین کے دل میں ہیں اور ان حقوق کی خلاف ورزی ہر شخص کے لیے تشویش کا معاملہ ہونا چاہیے۔‘
انہوں نے کہا کہ نہ صرف عدالتوں اور وکلاء بلکہ عام شہریوں کو بھی ان مسائل پر سوالات کرنے چاہئیں۔
انگریزی پورٹل live lawکے مطابق چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ ’’اس ملک میں جہاں لوگ اپنی بنیادی آزادیوں سے لطف اندوز نہیں ہوتے، وہ بیماریوں، بے روزگاری، توہمات کا شکار ہیں۔ انہیں تعلیم دینے اور ان کے حقوق اور فرائض سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔
چیف جسٹس نے قوانین، عدالتوں اور طریقہ کار کو عوام کے لیے قابل رسائی اور قابل فہم بنانے کی فوری ضرورت پر بھی بات کی۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ’’عدلیہ کو ہندوستانی بنانے‘‘ کی ضرورت ہے۔اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عام شہری کو نظام کو سمجھنا چاہئے۔ عدالتوں اور قوانین کو ویدوں کی طرح نہیں ہونا چاہئے جو عام شہری کی سمجھ سے باہر ہیں۔ قوانین اور طریقہ کار کو آسان بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ تب ہی ہم عام شہری کے قریب آسکیں گے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’لوگ عدالتوں میں آتے ہیں اور انہیں ناقابل فہم زبان اور طریقہ کار سے نمٹنا پڑتا ہے تو وہ خوفزدہ ہو جائیں گے اور عدالتوں سے رجوع کرنا چھوڑ دیں گے۔ ہمیں متبادل حل کے طریقہ کار پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے مطابق انصاف دینا حکومت کا بھی فرض ہے۔ اگر تمام اعضاء اپنے فرائض سرانجام دیں تو پھر لوگوں کو عدالتوں میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتیں عوام کی خدمت اسی وقت کرتی ہیں جب ان کے حقوق پامال ہوں۔ لیکن اگر تینوں ادارے آئین کی مقرر کردہ حدود میں اپنے فرائض سرانجام دیں تو عوام کو عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔










