علی گڑھ :(ایجنسی)
اترپردیش میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات سے پہلے یوگی آدتیہ ناتھ حکومت میں وزیر مملکت ٹھاکر رگھوراج سنگھ نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے حوالے سے ایک متنازعہ بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے جے این یو میں سیکس اسکینڈل چلتا ہے اور راہل گاندھی سمیت کانگریس کے بڑے لیڈر وہاں جاتے ہیں۔ یہی نہیں انہوں نے کہا کہ اداکارہ دیپیکا پڈوکون بھی وہاں جاتی ہیں۔ وزیر کے اس متنازع بیان کی ویڈیو اب سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے۔
علی گڑھ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹھاکر رگھوراج سنگھ نے کہا کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی نہرو کی حکمت عملی کے تحت قائم کی گئی تھی۔ جے این یو میں سیکس اسکینڈل جاری ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں کمیونسٹوں اور غداروں کی پرورش ہوئی ہے۔ ملک دشمن وہاں جنسی اسکینڈل چلاتے ہیں، جس میں راہل گاندھی اور دیپیکا پڈوکون جیسے بڑے لوگ جاتے ہیں۔ ملک دشمن لوگ وہاں جمع ہو رہے ہیں لیکن ہم آنے والے وقت میں ان ملک دشمن قوتوں کو کچل دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہندو طلبہ کے لیے اردو لازمی نہیں ہونی چاہیے۔ ہندو طلبہ ہندی جانتے ہیں۔ ہندی میںتعلیم ہونی چاہئے۔ ساتھ ہی یہاں ریزرویشن کے سوال پر انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت اسے اقلیتی یونیورسٹی بنانا چاہتی ہے۔ یہ ہندوستان یونیورسٹی بنے گی۔
چونکانے والی بات یہ ہے کہ یوگی حکومت کے وزیر رگھوراج سنگھ نے علی گڑھ میں امت شاہ کی ریلی کے دوران میڈیا سے بات چیت میں یہ بیان دیا۔ ان کے اس بیان کی ویڈیو اب سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے۔ یوپی حکومت کے لیبر اور روزگار کے وزیر مملکت ٹھاکر رگھوراج سنگھ ماضی میں بھی ایسے بیان دے چکے ہیں۔










