نئی دہلی:(اویس صدیقی)
وقف بورڈ دہلی کے چیئرمین امانت اللہ خان کا کہنا ہے کہ نظام الدین واقع نیو ہورائزن اسکول اور دریا گنج کے کریسنٹ پبلک اسکول جو اوقاف کی زمین پر ہیں ، ان کے من مانے رویے اور فیس کے نام پر لوٹ مار مچانے کی شکایات لگاتار مل رہی ہیں۔ انہوں نے وقف بورڈ افسران کو فوری طور پر کارروائی کے احکامات بھی دیے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ کروڑوں کا کرایہ واجب اداہے ۔وہیں اسکول کے نام پر لوٹ مار مچارکھی ہے، غریب بچوں کو داخلہ تک نہیں ملتا ۔
بہرحال چیئرمین صاحب کیا قدم اٹھائیں گے ،کس حد تک جائیں گے۔ وہ احکامات کیا ہیں اور کارروائی کس نوعیت کی ہوگی اور کب تک ہوگی ،بورڈ کے ہاتھ میں کارروائی کا اختیار ہے بھی یا نہیں ان کا جواب مستقبل قریب دے گا،ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ شکایات پہلی بار سامنے آئی ہوں ۔بچوں کے سرپرستوں نے سہولتوں کی کمی، انتظامیہ کی ہٹ دھرمی، آمرانہ رویہ اور داخلوں کے وقت اور اس کے بعد بھی مطالبات کی لمبی فہرست کی شکایت کی ہے۔
بظاہر لگتا تو ہے کہ ان اسکولوں کے ارباب انتظام نے قوم کی خدمت اور غریب بچوں کی تعلیم کو یقینی بنانے کے بجائے کمائی اور تجوریاں بھرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔اصل حقیقت تو تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گی۔
فی الحال الزامات اور جوابی الزامات کا نیا دور شروع ہوگیا ہے۔ وقف بورڈ کا کہنا ہے کہ ان دونوں اداروں پر کرایہ کی مد میں کروڑوں کا بقایا ہے جبکہ اس دعوے یا الزام کی تردید بھی سامنے آئی ہے۔
دہلی وقف بورڈ کے سینئر افسر حافظ محفوظ نے بوچھا ہے کہ کمال فاروقی کی یہ کیا ذاتی ملکیت ہے ۔ نیوہورائزن نے ایک روپے سال کی بھی فیس ادا نہیں کی تھی پھر چودھری متین کے دو ر میں ایک ہزار روپے کا کرایہ کردیا گیا وہ بھی ادا نہیں کیا اور اب جبکہ نئے وقف ایکٹ کے تحت کرایہ بڑھایا گیا تو اس پر سیخ پا ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پینتیس سال سے ایک بھی مسلم اسکول تسلیم شدہ نہیں ہے نیو ہورائزن بھی اقلیتی زمرہ میں تسلیم شدہ ہے یہ جگہ ورلڈ ایجوکیشن آرگنائزیشن کو دی گئی تھی۔ کمال فاروقی کو نہیں۔بہر حال کمال فاروقی منظر عام پر آگئے ہیں اور بورڈ سے دو دو ہاتھ کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے الزامات کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔
واضح رہے وہ مسلم پرسنل لا ءبورڈ کے معزز بانی ممبر بھی ہیں۔ بنیادی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ صورتحال کے لیے وقف بورڈ بھی ذمہ دار ہے۔ آخر اس نے کوئی ایسا میکنزم کیوں نہیں بنایا جو ایسی جائیدادوں اور اداروں پر نظر رکھ سکے اور معاملہ کو پیچیدہ نہ بننے دے اور معمولی رقم کی ادائیگی میں بھی آنا کانی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرسکے۔
امانت اللہ خاں نے پہلے ٹرم میں بھی یہ معاملہ اٹھایا تھا پھر یہ باب اچانک بند ہوگیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان شرائط اور معاہدوں کو پبلک ڈومین میں لایا جائے جن کے بوتے استحصال کا راستہ کھولا گیا ۔بہت سے سرپرستوں کو سنگین شکایات ہیں مگر بچوں سے انتقامی کارروائی کے اندیشے سے وہ خاموش رہتے ہیں ۔اگر آپریشن ضروری ہو تو اس سے دریغ نہ کیا جائے آخر معلوم تو ہو کہ کون قوم کی آڑ میں لوٹ مار کرہا ہے۔ کون سچا اورکون ڈھوںگی ہے۔
چیئرمین صاحب سے یہ امید کی جانی چاہیے کہ وہ اس جنگ کو انجام تک پہنچائیں گے اور ان کا قدم چائے کی پیالی میں طوفان ثابت نہیں ہوگا۔ ان کے ماضی کے رویے اور طریقہ کار کو دیکھ کر تو یہی امید کی جاسکتی ہے کہ ہر سوال کا جواب ملے گا اور کسی کو بخشا نہیں جائے گااور اس قضیہ کا ڈراپ سین بہتر انجام کے ساتھ ہوگا۔










