نئی دہلی :(ایجنسی)
جہاں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے پیر کو دہلی میں ایکسائز پالیسی میں تبدیلی کو لے کر عام آدمی پارٹی (آپ) کے خلاف محاذ کھول دیا،تو وہیں ’آپ‘ کے پرانے لیڈر اور شاعر کمار وشواس نے بھی بدعنوانی کا الزام لگایا ہے۔ ’آپ‘ کے بانی رکن رہے کمار وشواس نے الزام لگایا ہے کہ یہ ڈیل 500 کروڑ میں ہوئی ہے۔ وشواس کے اس الزام کے بعد ٹوئٹر پر ان کی آپ ایم ایل اے نریش بالیان کے ساتھ جنگ چھڑ گئی ہے۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ دونوں کے درمیان کیسے الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔
کمار وشواس کا الزام
دراصل، اس کی شروعات کمار وشواس کے ٹویٹ سے ہوئی، جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ 2016 میں دہلی کا ایک شراب ذخیرہ کرنے والا ایم ایل اے ان کے پاس شراب مافیا کے حوالے سے ایکسائز پالیسی میں تبدیلی کی سفارش لے کر آیا تھا اور انہوں نے دونوں کو ڈانٹ کر بھگا دیاتھا، لیکن اب 500 کروڑ میں ڈیل ہوگئی ۔ وشواس نے لکھا، ’پینے والوں کی عمر 21 سے 18 کرنے اور 1000 نئے ٹھیکے کھلوانے کی پالیسی لاگو کرنے کی سفارش لے کر 2016 میں دہلی شراب مافیا ، شراب ذخیرہ کرنے والے ایم ایل اے کے ساتھ میرے پاس آیا تھا ۔ میںنے ڈانٹ کر بھگا دیاتھا اور دونوں لیڈروں کو انتباہ دی تھی ۔ اب چھوٹے والے کے سالے نے 500 کروڑ کی ڈیل میں معاملہ سیٹ کر لیا۔‘
نریش بالیان نے کہا – راجیہ سبھا میں نہ بھیجے جانے کا درد
اس پر اتم نگر سے آپ کے ایم ایل اے نریش بالیان ناراض ہوگئے اور ٹویٹر پر کمار وشواس کو جواب دیتے ہوئے لکھا، ’’لگتا ہے کہ آج صبح آپ نے غلط چیز پی لی ہے، 2021 تک دہلی میں شراب نوشی کی عمر 25 سال تھی، نئی پالیسی کے بعد21 سال کی گئی ہے۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ شراب کا ایک بھی ٹھیکہ نہیں بڑھا،بلکہ 4 کم ہوئے، باقی ہم جانتے ہیں کہ راجیہ سبھا کا درد زندگی بھر رہے گا، ایسے ہی جھوٹ پھیلاتے رہیں!!
تم ہی آئے تھے، بتانے کی کیا ضرورت تھی: کمار
نریش بالیان کے اس ٹویٹ کے بعد کمار وشواس نے اپنے انداز میں جواب دیا اور کہا کہ 2016 میں جو ایم ایل اے ان کے پاس آیا تھا وہ نریش تھا۔ کمار وشواس نے لکھا، ’’چورجو چپ ہی لگا جاتا تو وہ پیٹا، باپ کا نام بتانے کی ضرورت کیا تھی…!‘‘میں نے تو بس ’ دارو جمع خور ایم ایل اے‘ لکھاتھا ،تم ہی آئے تھے یہ بتانے کی ضرورت کیا تھی بالک۔؟
دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا: نریش
نریش بالیان نے ایک بار پھر کمار وشواس کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ عام آدمی پارٹی نے انہیں نکال دیا ہے۔ انہوں نے لکھا، ’’پہلے بی جے پی کے دلالوں کے ساتھ مل کر عام آدمی پارٹی کی سرکار گرانے کی کوشش کی،جب عام آدمی پارٹی نے بھگا دیا توپھر بی جے پی کے پاس گئے پھر انہیں بھی وہاں سے بھگا دیا گیا توپھر سماج وادی پارٹی والے کے پاس گئے۔ انہوں نے بھی بول بچن کے سبب بھگا دیا۔ دھوبی کا کتا نہ گھر کارہا نہ گھاٹ کا۔‘‘










