لکھنؤ:(ایجنسی)
اتر پردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کی تیاریاں زوروں پر ہیں اور کسی بھی وقت انتخابات کا معرکہ کھیلا جا سکتا ہے۔ اس درمیان خبر ہے کہ اتر پردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات 6 سے 8 مرحلوں میں کرائے جا سکتے ہیں۔ حالانکہ الیکشن کمیشن اترپردیش میں ووٹنگ کے مراحل کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے، ذرائع بتا رہے ہیں کہ یوپی میں اسمبلی انتخابات 6 سے 8 مرحلوں میں ہو سکتے ہیں۔ اس وقت کمیشن کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کے پیش نظر الیکشن کرانے سے پہلے ہر پہلو پر غور کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج الیکشن کمیشن کی وزارت صحت سے میٹنگ ہوئی ہے۔
کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے درمیان یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ شاید یوپی میں اسمبلی انتخابات ملتوی ہو جائیں گے، لیکن تیاریوں کا جائزہ لینے کے بعد لکھنؤ میں الیکشن کمیشن کی ٹیم نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس کر کے واضح کر دیا کہ انتخابات وقت پر ہی ہوں گے۔ اس کے لئے تمام پارٹیوں نے اسمبلی ا نتخابات کروانے کے لیے رضامندی ظاہر کردی ہے۔ اب سے کسی بھی دن یوپی انتخابات کااعلان کرسکتا ہے۔ اسی کے ساتھ پردیش میں ضابطہ اخلاق لاگو ہوجائےگا۔
بحث تھی کہ 9 جنوری کو پی ایم مودی کی ریلی کے بعد الیکشن کمیشن اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کرے گا، لیکن اب خبر ہے کہ پی ایم مودی کی ریلی منسوخ ہوسکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں الیکشن کمیشن اب صرف وزارت صحت سے میٹنگ کرے گا اور کورونا اور ویکسینیشن کی رفتار کے بارے میں مشاورت کرے گا اور اس کے بعد تاریخوں کا اعلان کرے گا۔ واضح رہے کہ سال 2017 میں انتخابات کا اعلان 4 جنوری کو ہوا تھا۔ ووٹنگ 36 دن بعد 11 فروری سے 8 مارچ تک سات مرحلوں میں ہوئی تھی۔
بتادیں کہ الیکشن کے اعلان اور پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے درمیان کم از کم 30 سے 35 دن کا وقت لگتا ہے۔ اتنا وقت نوٹیفکیشن جاری کرنے، کاغذات نامزدگی کا عمل شروع کرنے، کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال اور امیدواروں کو انتخابی مہم چلانے میں صرف ہوتا ہے۔ اس طرح اس میں 4-5 ہفتے لگیں گے۔ اس کے بعد ووٹوں کی گنتی اور نتائج جاری کرنے میں مزید ایک ہفتہ لگ جاتا ہے۔ یعنی اس وقت تک مارچ کا دوسرا ہفتہ آجائے گا۔ 2017 میں 11 مارچ کو نتائج کا اعلان کیا گیا تھا۔
اس سے قبل 2017 میں انتخابات کا اعلان 4 جنوری کو ہوا تھا۔ 11 فروری سے 8 مارچ تک سات مرحلوں میں ووٹنگ ہوئی تھی۔ نتائج 11 مارچ کو آئے تھے۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے 19 مارچ کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا تھا۔ قانون ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس 15 مئی کو ہواتھا۔ اس طرح اس سال 14 مئی کو اسمبلی کی مدت پوری ہو جائے گی۔











