کے دورے کے دوران ایک بار پھر اپوزیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے بی کاپور اسمبلی حلقے میں 432 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے 217 ترقیاتی منصوبوں کے افتتاح اور سنگ بنیاد رکھنے کے بعد منعقدہ عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عقیدے اور مذہبی مقامات کے معاملے پر سخت بیان دیا۔
"ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی گئی تھی”
یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ جو لوگ آج عقیدے اور مذہبی احترام کی بات کرتے ہیں، انہی لوگوں نے ایودھیا کی مقدس ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی۔
انہوں نے کہا،
"ذرا سوچیے، کیا کبھی جامع مسجد میں ہنومان چالیسہ کا پاٹھ کرایا جا سکتا ہے؟ کیا کانگریس یا سماجوادی پارٹی ایسی اجازت دے سکتی ہے؟ اگر نہیں، تو پھر ایودھیا کی ہنومان گڑھی کی سیڑھیوں پر ایسا کیوں ہونے دیا گیا؟”
وزیر اعلیٰ نے اس واقعے کو "گناہ” قرار دیتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اختیار کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
"نیت صاف ہو تو کام خود بخود ہوتے ہیں”
اپنے خطاب میں یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ اگر حکومت کی نیت صاف ہو اور پالیسی واضح ہو تو نتائج خود بخود سامنے آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج ایودھیا میں ہونے والی ترقی اسی کا ثبوت ہے اور بھگوان شری رام اور پون پتّر ہنومان جی کے آشیرواد سے شہر تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
432 کروڑ روپے سے زائد کے منصوبوں کا افتتاح
وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر 432 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے 217 ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد بھی رکھا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایودھیا کو مذہبی، ثقافتی اور سیاحتی اعتبار سے عالمی سطح کا شہر بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔











