فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے، جس میں اسلام قبول کرنے والے افراد کو بیک ورڈ کلاس مسلم (BCM) زمرے کے تحت ریزرویشن دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔
ریاستی حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر کوئی شخص ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کر لیتا ہے تو اس کی سماجی، تعلیمی اور معاشی پسماندگی فوراً ختم نہیں ہو جاتی، اس لیے ایسے افراد کو ریاست میں مسلم برادری کے لیے مختص 3.5 فیصد ریزرویشن سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔
حکومت نے سپریم کورٹ میں کیا دلیل دی؟
سپریم کورٹ میں دائر خصوصی اجازت کی درخواست (SLP) میں تمل ناڈو حکومت نے کہا ہے کہ ریزرویشن کا مقصد مذہب کی بنیاد پر فائدہ دینا نہیں بلکہ سماجی اور تعلیمی پسماندگی کو دور کرنا ہے۔
حکومت کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرتا ہے تو اس کی تاریخی، سماجی اور معاشی حیثیت یکدم تبدیل نہیں ہو جاتی۔ اس لیے صرف مذہب تبدیل کرنے کی بنیاد پر ریزرویشن کا حق ختم کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
کن طبقات کے لیے مانگی گئی رعایت؟
ریاستی حکومت چاہتی ہے کہ ایسے افراد، جو پہلے بیک ورڈ کلاس (BC)، انتہائی پسماندہ طبقہ (MBC)، ڈی نوٹیفائیڈ کمیونٹی (DNC) یا شیڈولڈ کاسٹ (SC) سے تعلق رکھتے تھے اور بعد میں اسلام قبول کر چکے ہیں، انہیں بھی BCM ریزرویشن کا فائدہ ملتا رہے۔
مدراس ہائی کورٹ نے کیا کہا تھا؟
مدراس ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ صرف مذہب تبدیل کرنے کی بنیاد پر کسی شخص کو خودکار طور پر BCM زمرے میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ اسی فیصلے کو اب تمل ناڈو حکومت نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔
اب اس معاملے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ مستقبل میں مذہب کی تبدیلی اور ریزرویشن سے متعلق پالیسیوں پر اہم اثر ڈال سکتا ہے۔











