نئی دہلی :(ایجنسی)
ممبئی پولیس کے بعد اب دہلی پولیس نے بھی ’بلّی بائی‘ ایپ سے مسلم خواتین کو نشانہ بنانے کے معاملے میں کارروائی کی ہے۔ دہلی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ بُلّی بائی ایپ کے خالق اور اس کے کلیدی سازش کار کو آسام سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ممبئی پولیس نے اس معاملے میں کارروائی کی اور کم از کم تین لوگوں کو گرفتار کرنے کے بعد دہلی پولیس کافی دباؤ میں تھی۔ دہلی پولیس پر سوال اٹھ رہے تھے کہ چھ مہینے پہلے کے ’سلی ڈیل‘ کے معاملے میں بھی اس نے کارروائی کیوں نہیں کی۔
اب دہلی پولیس کے ڈی سی پی (آئی ایف ایس او) کے پی ایس ملہوترا نے کہا ہے، ‘نیرج بشنوئی، جسے دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کی آئی ایف ایس او ٹیم نے آسام سے گرفتار کیا ، گٹ ہب پر ’بلّی بائی‘ کا اصل سازشی ہے، جو ایپ کا خالق ہے اور وہ چلاتا ہے۔ ایپ کا کلیدی ملزم ٹویٹر اکاؤنٹ چلاتا ہے۔ اسے دہلی لایا جا رہا ہے۔
دہلی پولیس کے مطابق کلیدی ملزم 20 سالہ نیرج بشنوئی آسام کے جورہاٹ کے دیگمبر علاقے کا رہنے والا ہے۔ وہ ویلور انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، بھوپال کا بی ٹیک طالب علم ہے۔
اس سے قبل ممبئی پولیس نے جن تین لوگوں کو گرفتار کیا تھا ان میں سے ایک انجینئرنگ کا طالب علم ہے۔ ممبئی پولیس نے سب سے پہلے بلی بائی ایپ کیس میں بنگلور کے انجینئرنگ کے طالب علم وشال جھا کو گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد اس نے اتراکھنڈ سے 12ویں کی 18 سالہ طالبہ شویتا سنگھ کو گرفتار کیا تھا۔ تیسرے ملزم میانک راوت کو بھی ممبئی پولیس نے اتراکھنڈ سے ہی گرفتار کیا تھا۔
ممبئی پولیس کا کہنا ہے کہ شویتا سنگھ نے پوچھ گچھ کے دوران اعتراف کیا ہے کہ وہ نیپال کے رہائشی ایک سوشل میڈیا دوست کی ہدایت پر یہ کام کر رہی تھی۔
اتراکھنڈ پولیس کے ترجمان ڈی آئی جی سینتھل اے کرشنا راج نے کہا ہے، ’ممبئی پولیس کی ابتدائی تفتیش کے دوران، اس نے دعویٰ کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ایک دوست، نیپال کے رہنے والے، گیئو کے نام سے شناخت کیے جانے والے شخص کی ہدایت پرفرضی ٹوئٹر اکاؤنٹ jattkhalsa07بنایا۔ اس اکاؤنٹ کااستعمال بلی بائی ایپ پر موادپوسٹ کرنےکےلیے کیاگیا تھا۔
پولیس کی جانب سے یہ کارروائی اس لیے کی جا رہی ہے کہ ’بلی بائی‘ ایپ کو اوپن سورس پلیٹ فارم گٹ ہب کا استعمال کرتے ہوئے بنایا گیا تھا اور اس پر سینکڑوں مسلم خواتین کی تصاویر اپ لوڈ کی گئی تھیں۔ اس نے خاص طور پر ان خواتین کو نشانہ بنایا جو سماجی مسائل پر آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ اس میں صحافیوں سے لے کر سماجی کارکنان تک شامل ہیں۔











