ایودھیا :(ایجنسی)
ایودھیا کی ایک ریونیو عدالت نے کہا ہے کہ کسی بھی دلت کی زمین کو ٹرسٹ کو دیا جانا مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔ اسسٹنٹ ریکارڈ آفیسر (اے آر او) نے فیصلہ دیا ہے کہ یوپی حکومت کے ذریعہ دلت برادری کی 21 بیگھہ زمین کو مہارشی رامائن ودیا پیٹھ ٹرسٹ کو منتقل کئے جانے کا فیصلہ اب منسوخ ہوگیاہے۔ یہ زمین 22اگست 1996 کو اس وقت کی ریاستی حکومت نے اس ٹرسٹ کو منتقل کیا تھا۔ تاہم اے آر او نے ٹرسٹ کے خلاف کسی کارروائی کی سفارش نہیں کی ہے۔
بتادیں کہ انڈین ایکسپریس نے کچھ دن پہلے ایک خبر شائع کی تھی کہ نومبر 2019 میں ایودھیا تنازعہ پر فیصلہ آنے کے بعد ایودھیا میں زمین خریدنے کی دوڑ لگی ہوئی تھی۔
اخبار نے کہا تھا کہ اس ٹرسٹ نے رام مندر سے صرف 5 کلومیٹر کے فاصلے پر 21 بیگھہ یعنی تقریباً 52000 مربع میٹر زمین دلتوں سے خریدی تھی اور اس میں قواعد کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔
معاملے میں طول پکڑنے کے بعد وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے جانچ کا حکم دیا تھا اور اس کے بعد تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی ۔
اسسٹنٹ ریکارڈ آفیسر بھان سنگھ نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ انہوں نے اگست 1996 میں جاری کردہ آرڈر کو منسوخ کر دیا کیونکہ یہ مکمل طور پر غیر قانونی تھا اور اس معاملے کو مزید کارروائی کے لیے ایس ڈی ایم کو بھیج دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کرشنا کمار سنگھ کے خلاف بھی کارروائی کی سفارش کی ہے جو اس وقت نائب تحصیلدار تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ انہیں اس معاملے میں کوئی فراڈ نہیں ملا ہے، اس لیے انہوں نے ٹرسٹ یا کسی اور کے خلاف کارروائی کی سفارش نہیں کی ہے۔
اتر پردیش ریونیو کوڈ رولس کے مطابق کوئی بھی غیر دلت ضلع مجسٹریٹ کی پیشگی اجازت کے بغیر کسی دلت سے زمین نہیں خرید سکتا۔ لیکن اس ٹرسٹ نے یہ زمین تقریباً ایک درجن دلتوں سے خریدی اور پھر بیچ دی۔
اس معاملے نے سیاسی طول بھی پکڑا تھا اور کانگریس نے الزام لگایا تھا کہ بی جے پی کے کئی لیڈروں اوراترپردیش انتظامیہ کے کچھ افسروں نے ایودھیا میں زیر تعمیر رام مندر کے آس پاس کی زمین مہنگے داموں خریدی تھی۔ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا تھا کہ رام مندر کے ارد گرد کی زمینوںکی لوٹ ہورہی ہے ۔











