نئی دہلی:(ایجنسی)
سی اے اے مخالف اسٹوڈنٹس اور سرکردہ سماجی کارکن عائشہ رینا، لدیدہ فرزانہ، اور ندا پروین، جنہیں ’بُلّی بائی‘ ایپ کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا، نے منگل کو سپریم کورٹ پر زور دیا کہ وہ SulliDeals اور Bulli Bai Apps کے خلاف از خود کارروائی کرے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں سی اے اے مخالف تحریک کے دوران شہرت حاصل کرنے والی ان لڑکیوں نے کہا کہ انہیں ’اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ وہ مسلمان تھیں‘۔انہیں شیطانی اور نیچا دکھانا اصل مقصد ہے۔
کیرالہ کے کوزی کوڈ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ’’ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ مسلم خواتین کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے از خود نوٹس لے‘‘
رینا، جو اب فیرینٹری تحریک کی قومی سکریٹری ہیں، نے کہا کہ بلّی بائی کا واقعہ سولی ڈیلز پر ریاست اور لاء اینڈ آرڈر ایجنسیوں کی خاموشی کی وجہ سے ہوا۔ پچھلی بار اس معاملے میں قصورواروں کے خلاف کوئی پولیس کارروائی نہیں کی گئی، باوجود اس کے کہ دو ایف آئی آر درج کی گئیں – ایک دہلی میں اور دوسری اتر پردیش میں اور ملک کے کئی تھانوں میں درجن سے زیادہ شکایات لکھی گئیں۔
لدیدہ نے کہا کہ ’یہ صرف جنسی ہراسانی کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ، یہ ہندوستانی ثقافت میں مسلم خواتین کی اوقات بتانے اور اس خیال کو دہرانا ہے کہ مسلم خواتین کی عصمت دری کسی بھی وقت ہوسکتی ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ’’ایک ایسے وقت میں جب ہمیں غلاموں کے طور پر بیچا اور خریدا جا رہا ہو تو عوام میں خواتین کی حیثیت سے ہمارے پاس تحفظ کا کیا احساس ہے؟‘‘
لدیدہ اور رینا دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طالبات تھیں، ایک ایسی یونیورسٹی جسے 2019 میں خوفناک ریاستی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا کیونکہ اس نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ریلیوں کو روکنے کی کوشش کی تھی۔
ممبئی کے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کی ایک طالبہ ندا پروین کہتی ہیں، ’’یہ واقعی کافی مشکل ہے،‘‘ اس ’’خوف اور درد‘‘ پر قابو پانا۔
’’ہری دوار میں کیا ہوا اور اب سلی ڈیل اور بلی بائی کی آڑ میں کیا ہو رہا ہے، سب کے ذہن میں ایک ہی مقصد ہے: مسلمانوں کا خاتمہ،‘‘ ندا نےیہ تبصرہ کیا جو2019 میں قومی دارالحکومت کے سی اے اے مخالف مظاہروں کی اہم علامت بن گئی تھیں۔وہ اس وقت دہلی یونیورسٹی کی طالبہ تھیں۔واضح ہو اس معاملے میں اب تک ماسٹر مائنڈ سمیت چار لوگ گرفتار کیے جا چکے ہیں۔











