نئی دہلی :(ایجنسی )
پنجاب میں وزیر اعظم نریندر مودی کی سیکورٹی میںچوک کا معاملہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ صدر رام ناتھ کووند نے بھی اس واقعہ پر تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔ وہیں، اب اس پیش رفت پر کسان لیڈر راکیش ٹکیت کا متنازع بیان سامنے آیا ہے۔ راکیش ٹکیت نے اس واقعہ کو اسٹنٹ بتایا اورکہاکہ یہ عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کا سستا طریقہ تلاش کرنے کی کوشش ہے ۔
واضح رہے کہ بدھ کےروز پی ایم مودی کا فیروز پورہ دورہ مجوزہ تھا، لیکن وہ مظاہرین کے راستہ روکے جانےکی وجہ سے جلسہ کے مقام تک نہیں پہنچ پائےاور واپس لوٹ آئے۔ اس دوران پی ایم مودی کےساتھ پنجاب میں سیکورٹی کےحوالہ سے بھاری چوک کامعاملہ سامنےآیا ہے ۔ یہاں تک کہ پی ایم مودی نے بھٹنڈہ ایئرپورٹ پنچ کر واقعہ پر ناراضگی ظاہر کی اورایئر پورٹ افسران سے کہاکہ اپنے سی ایمکو تھینکس کہنا کہ میں یہاں تک زندہ لوٹ آیا۔
اس واقعہ پر پنجاب کی چرنجیت سنگھ چننی کی حکومت کی کافی فضیحت ہو رہی ہے۔ اب معاملے میں بھارتیہ کسان یونین کے لیڈر راکیش ٹکیت کا بیان سامنے آیاہے۔ راکیش ٹکیت کاکہنا ہے کہ ’’ جب پی ایم پنجاب آرہے تھے توانہوں نے سیکورٹی کےحوالہ کیا انتظام کئے تھے؟ ان کی بحفاظت واپسی کی خبر سے صاف ہوجاتا ہے کہ یہ ایک اسٹنٹ تھا۔ یہ عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کا سستا طریقہ تلاش کرنے کی کوشش تھی۔
اہم بات یہ ہے کہ پی ایم مودی فیروز پور ریلی میں 42,750 کروڑ روپے کے پروجیکٹوں کا اعلان کرنے والے تھے، لیکن ان کا قافلہ 20 منٹ تک فلائی اوور پر پھنس گیا۔ یہ واقعہ کسانوں کی تنظیم کے مظاہرے کی وجہ سے پیش آیا۔ پی ایم مودی کے قافلے میں پھنسنے کو سیکورٹی کی سنگین غلطی کا معاملہ سمجھا گیا اور بی جے پی نے کانگریس کی پنجاب حکومت پر سخت حملہ کیا۔ اس سے پہلے جمعرات کی صبح یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی پہنچا ، جس کی سماعت جمعہ کو ہونے والی ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب حکومت کی جانب سے سیکورٹی میں چوک کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔











