وارانسی:(ایجنسی)
وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقہ وارانسی (کاشی) کے گنگا گھاٹوں پر غیر ہندوؤں کے داخلے پر پابندی کے پوسٹر لگائے گئے۔ یہ پوسٹر وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل نے لگائے ہیں۔ کاشی کے گنگا گھاٹوں کے علاوہ مزید مندروں میں بھی ایسے پوسٹر لگانے کا منصوبہ ہے۔ فی الحال پولیس اس معاملے پر بولنے سے گریز کر رہی ہے۔ تاہم پولیس کی جانب سے ان پوسٹروں کو ہٹانے کا کام جاری ہے۔ دوسری جانب بجرنگ دل کاشی میٹروپولیٹن کنوینر نکھل ترپاٹھی ‘’رودر‘ کا کہنا ہے کہ اب ہندو سماج کو اپنی طاقت دکھا کر مذہب اور سماج کی حفاظت کے لیے آگے آنا ہوگا۔ سب کچھ حکومت پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ جہاں بھی کوئی دوسرے مذہب کے لوگ مندر یا گنگا گھاٹ کے کنارے داخل ہوتا ہے، اسے موقع پر پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا۔
یہ پوسٹر وی ایچ پی اور بجرنگ دل کی جانب سے پنچ گنگا گھاٹ، رام گھاٹ، مانیکرنیکا گھاٹ، دشاسوامیدھ سے لے کر کاشی کے اسی گھاٹ تک لگائے گئے ہیں، جس میں واضح طور پر لکھا گیا ہے کہ گنگا گھاٹ پر غیر ہندوؤں کا داخلہ ممنوع ہے۔ ان پوسٹروں کو لگانے کے بعد اب وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل نے پورے کاشی کے مندروں میں ایسے پوسٹر لگانے کی بات کی ہے۔ وی ایچ پی کے میٹروپولیٹن وزیر راجن گپتا کا کہنا ہے کہ مندر اور گنگا گھاٹ سناتن دھرم کے لوگوں کے لیے عقیدہ اور عقیدت کی جگہ ہے، یہاں دوسرے مذاہب کے لوگوں کا کیا کام؟ وشو ہندو پریشد کے میٹروپولیٹن صدر کنہیا سنگھ نے کہا کہ دھرم کی حفاظت کے لیے ایسا کیا جا رہا ہے۔
دریں اثنا، گنگا گھاٹ اور وارانسی کے کئی مندروں میں اس طرح کے بینر لگانے کو لے کر سماج وادی پارٹی کی جانب سے ردعمل سامنے آیا ہے۔ سماج وادی پارٹی نے اسے بی جے پی اور وشو ہندو پریشد کی مذہبی پولرائزیشن کی سازش قرار دیا ہے۔ مہامرتیونجے مندر پریوارسے وابستہ اور سماج وادی پارٹی یوجن سبھا کے ضلع صدر کشن دیکشت کا کہنا ہے کہ وارانسی میں لوگ ویسے بھی تمام مذاہب کے مذہبی مقامات کا احترام کرتے ہیں۔ عام طور پر نہ کوئی مسلمان مندر جاتا ہے اور نہ ہی کوئی ہندو مسجد میں پہنچتا ہے۔ پھر ایسے بینرز لگانا نامناسب ہے۔ ایس پی لیڈر کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے پاس کوئی ایشو نہیں بچا، اس لیے اب مذہبی پولرائزیشن کرکے سماج کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔











