نئی دہلی:(ایجنسی)
گزشتہ سال دسمبر میں ہری دوار میں ایک مبینہ ’دھرم سنسد ‘کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جس میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی اور تشدد پر اکسانے والے بیانات دیے گئے۔ جس کی سماجی تنظیموں کی جانب سے شدید مخالفت کی گئی۔ اب نریندر مودی حکومت کے وزیر نتن گڈکری نے بھی نفرت انگیز تقریر معاملے میں کہا کہ سب کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ دوسری طرف، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (IIMs) کے طلباء اور اساتذہ نے پی ایم مودی کو خط لکھا ہے کہ نفرت انگیز تقریر اور اقلیتوں پر حملوں پر آپ کی خاموشی نفرت کی آوازوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
نیوز چینل این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر نتن گڈکری نے ہری دوار میں منعقدہ دھرم سنسد میں دی گئی اشتعال انگیز تقریر کے بارے میں کہا کہ سوامی وویکانند نے شکاگو میں تقریر میں کہا تھا کہ ہمارا مذہب رواداری پر مبنی ہے۔ آسانی کی بنیاد پر، سادگی کی بنیاد پر، ہمارے راجاؤں نے کبھی کسی کی عبادت گاہیں نہیں توڑیں۔ ہم توسیع پسند نہیں ہیں۔ ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ پوری دنیا کی فلاح ہو۔ یہ ہماری ثقافت ہے، اس لیے یہ خیال بنیادی خیال ہے۔ ایسے میں اگر کوئی اس کے برعکس بات کرے تو وہ ہمارا اصل نظریہ نہیں ہے۔ اس کی تردید کی جائے۔ خواہ وہ کسی بھی مذہب سے ہو۔ اسے اہمیت نہ دی جائے۔
اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔ ہم اپنا کام اسی بنیاد پر کریں گے جو قانون میں درست ہے۔ دوسری طرف مرکزی وزیر نتن گڈکری نے بُلّی بائی ایپ کے معاملے کو لے کر کہا کہ سماج میں چھوٹے لوگوں کے کچھ غلط کرنے سے اس کو پورے سماج کے ساتھ جوڑنا مناسب نہیں ہے۔ جو غلط ہے وہ غلط ہے، جو صحیح ہے وہ صحیح ہے۔ قانون اپنا کام کرے گا۔ اس سلسلے میں مناسب کارروائی کی جائے گی۔
خط میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ہمارا آئین ہمیں بغیر کسی خوف اور شرم کے اپنے مذہب پر وقار کے ساتھ عمل کرنے کا حق دیتا ہے، لیکن اب ہمارے ملک میں خوف کا عالم ہے، حالیہ دنوں میں گرجا گھروں سمیت عبادت گاہوں میں توڑ پھوڑ کی جا رہی ہے اور ہمارے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی دعوت دی جا رہی ہیں۔ یہ سب کچھ بغیر کسی مناسب عمل کے اور بغیر کسی خوف کے کیا جا رہا ہے۔











