لکھنؤ :(ایجنسی)
بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے اتوار کو نامہ نگاروں سے کہا کہ ’انتخابات کو مذہبی رنگ دے کر متعصبانہ سیاست‘ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مرکزی الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایسی سیاست کرنے کے خلاف سخت قدم اٹھائے۔
مایاوتی نے کہا کہ انتخابی ریاستوں میں یہ بہت ضروری ہے کہ انتخابی کمیشن انتخابی ضابطہ اخلاق کو سختی سے لاگو کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے، تاکہ آزادانہ، منصفانہ اور انتخابات کے انعقاد کے معاملے میں عام لوگوں کا اعتماد پیدا ہو سکے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ’’گزشتہ چند سالوں میں انتخابات کے دوران ہر قسم کی دھاندلی اور اقتدار و مذہب کا انتخابی فائدہ اٹھانے کے لیے غیر منصفانہ کام کرنے کا رجحان انتہائی مہلک شکل میں بڑھ گیا ہے۔‘‘
مایاوتی نے کہا، ’’پچھلے کچھ انتخابات میں، کورونا وائرس کے پھیلنے کے درمیان بھی جس طرح سے ریلیوں اور روڈ شو وغیرہ کے ذریعے ضابطہ اخلاق کی کھلے عام خلاف ورزی کی گئی ہے، اس سے پورا ملک حیران ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ چند سالوں سے الیکشن کو مذہبی رنگ دے کر جس طرح تنگ نظری کی سیاست کی جا رہی ہے اس پر الیکشن کمیشن کو بھی سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
اتوار کو مایاوتی کا یہ بیان اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے بیان کے چند گھنٹے بعد آیا ہے۔ سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک انتخابی ریلی کے دوران کہا تھا کہ یہ انتخاب 20 فیصد کے مقابلے 80 فیصد ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ریاست میں مسلمانوں کی آبادی کل آبادی کا 20 فیصد ہے۔











