لکھنؤ :(ایجنسی)
بلسی (بدایوں) کے ایم ایل اے رادھا کرشن شرما کوایس پی سپریمو اکھلیش یادو نے پارٹی دفتر میں پارٹی جوائن کرائی ۔ رادھا کرشن شرما بدایوں کے بااثر برہمن رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔ ان کا ایس پی میں آنا کوئی عام خبر نہیں ہے۔ ایس پی ذرائع کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے اور بھی کئی ایم ایل اے اکھلیش کے رابطے میں ہیں لیکن وہ پہلے ٹکٹ کی یقین دہانی چاہتے ہیں۔
گزشتہ ہفتہ بہرائچ سے بی جے پی ایم ایل اے مادھوری ورما بھی ایس پی میں شامل ہو چکی ہیں۔
بلسی کے ایم ایل اے رادھا کرشن شرما کا ایس پی میں شامل ہونا یوپی میں بدلتی برہمن سیاست کی تصویر ہے۔ ایس پی ذرائع کا کہنا ہے کہ برہمن اور دیگر پسماندہ طبقوں کے بی جے پی کے کئی ایم ایل اے نے اکھلیش یادو سے رابطہ کیا ہے۔ لیکن اکھلیش یادو نے پارٹی عہدیداروں سے کہا ہے کہ جو بھی بی جے پی ایم ایل اے ایس پی میں آرہے ہیں ان کی شبیہ ، بیک گراؤنڈ کی جانکاری پہلے انہیں دی جائے، تبھی اس کی تقرری کی تصدیق کی جائے گی ۔
بھاری پڑ رہاہے اکھلیش کا فرسا
ایس پی نے اپنی برہمن سیاست کی شروعات مندروں میں پرشورام کی مورتیاں لگا کر کی۔ اس کے لیے اکھلیش نے اپنی پارٹی کے قابل اعتماد برہمن لیڈروں کو برہمن مشن پر مقرر کیا۔ چھ مہینے پہلے جب ایس پی نے برہمن سمیلن کا انعقاد کیا تھا ، تبھی یہ صاف ہوگیا تھا کہ ایس پی کی سیاست کچھ اورہے۔ اس کے بعد اکھلیش اپنے رتھ پر سوارہوکرکئی برہمن اکثریتی اسمبلی حلقوں میں پہنچے اور وہاں عوامی طور سے فرسا گدا وغیرہ لہرائے۔ دس دن پہلے جونپور کے بدلاپور قصبے میں برہمن سمیلن کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس سمیلن کےلیے جاری پوسٹر کو اکھلیش نے عام کرتے ہوئے دانشوروں سے پارٹی کے لیے آشیرواد مانگا تھا۔ برہمن دانشوروںکے سمیلن کے پیچھے ایس پی کےبرہمن لیڈر تھے، سمیلن میں اعلان کیا گیا کہ ہمارا بی جے پی سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔ اس لئےہم تمام لوگ سنکلپ لیتے ہیں کہ چونکہ اکھلیش یادو اور ان کی پارٹی برہمنوں کا احترام کررہی ہے ،مورتیاں لگوا رہی ہے، اس لئےیوپی کا برہمن سماج اب ایس پی اوراکھلیش کےساتھ ہے،انہیں دل سے آشیرواد دیتےہیں۔
بی جے پی نے کیوں بنائی برہمن کمیٹی ؟
بی جے پی میں 46 برہمن ایم ایل اے ہیں۔ اس کے باوجود 26 دسمبر کو انہوں نے یوپی کے لیے ایک چار رکنی برہمن کمیٹی بنائی اور انہیں ریاست کا دورہ کرنے کو کہا۔ بی جے پی کو پہلے ہی اطلاع تھی کہ یوپی کے برہمن ان سے ناراض ہیں۔ ریاست میں برہمنوں کی تعداد 8 سے 10 فیصد ہے۔ اس کے باوجود انہیں بااثر سمجھا جاتا ہے کیونکہ ان کے لوگ تمام جماعتوں میں اہم فیصلہ سازوں میں شامل ہیں۔ بی ایس پی ہو یا کانگریس، سبھی پارٹیوں کا یہی حال ہے۔ لیکن جب یوگی آدتیہ ناتھ کو یوپی میں وزیر اعلیٰ بنایا گیا تو برہمن ان کی پالیسیوں سے ناراض ہونے لگے۔ برہمن تنظیموں نے یوگی پر جانبداری کی سیاست کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے یوپی میں برہمن بمقابلہ ٹھاکر کا ماحول بنایا ہے۔
بی جے پی کیڈر کو عام طور پر بہت ڈسپلن سمجھا جاتا ہے۔ پارٹی کے بہت کم ایم ایل اے یا ایم پی دیگر پارٹیوں میں جاتے ہوئے دیکھے گئے ہیں، لیکن دوسری پارٹیوں سے آنے والوں کی تعداد بی جے پی میں زیادہ ہے۔ لیکن یوپی الیکشن 2022 کا منظر بدل گیا ہے۔ جس طرح سے بی جے پی ایم ایل اے پارٹی چھوڑ رہے ہیں، یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ یوگی کی پالیسیوں سے خوش نہیں ہیں۔
بی جے پی اب کیا کرے گی؟
بی جے پی کی چار رکنی کمیٹی شاید ہی پارٹی کو کوئی سیاسی فائدہ دے سکے۔ کیونکہ اس کمیٹی کی تشکیل سے یہ اشارہ بھی مل گیا ہے کہ پارٹی نے بھی مان لیا ہے کہ ریاست کے برہمن بی جے پی سے ناراض ہیں۔ اسی لیے بی جے پی اب اپنے باقی برہمن ایم ایل اے کی میٹنگ بلانے جا رہی ہے۔ جس میں پارٹی کے بڑے لیڈر ان سے براہ راست بات چیت کریں گے اور ان کی ناراضگی دور کرنے کا حل پوچھیں گے۔ حالانکہ بی جے پی نے دس برہمنوں کو وزیر بنا رکھا ہے۔ لیکن چیزیں کام نہیں کرتی ہیں۔ تاہم یوپی کی سیاسی تصویر تیزی سے بدل رہی ہے۔ تازہ ترین واقعات سے بی جے پی دباؤ میں آ گئی ہے۔ ایم ایل اے کا ٹوٹنا اور ایس پی میں جانا اچھا شگون نہیں سمجھا جاتا ہے۔











