نئی دہلی:(ایجنسی)
ہری دوار میںمنعقد ہ مبینہ دھرم سنسد کے خلاف بیرون ملک میں غیر مقیم ہندوستانیوں نے زبردست غصہ کااظہارکیا ہے۔ جنوبی افریقہ، آسٹریلیا، امریکہ، برطانیہ، ہالینڈ، جرمنی، نیوزی لینڈ سمیت کئی ممالک میں رہنے والے ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی برادریوں کے لوگوں نے 8 جنوری کو ٹوئٹر پر#StopIndianMuslimGenocideکے نام سے ہیش ٹیگ چلایا اوردھرم سنسد میں تقریر کرنے والوں کی گرفتاری کی مانگ کی۔
اس دوران بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کے گروپ نے کہا کہ اس دھرم سنسد میں نسل کشی کی جو بات کی گئی ہے اس کے خلاف پوری دنیا سے ایک مضبوط آواز اٹھنی چاہیے۔
دلت سالیڈیٹری فورم سے وابستہ ڈاکٹر روضہ نے کہا کہ دنیا کو ہندوستان کی صورتحال کے بارے میں مداخلت کرنی چاہئے۔ پوئٹک جسٹس فاؤنڈیشن نے اپیل کی کہ انسانیت سے محبت کرنے والے لوگ اور ممالک بھی فوری مداخلت کریں۔
ساؤتھ ایشیا یونٹی گروپ کے ترجمان مکتی شاہ نے کہا کہ ہم جرمنی میں ہونے والی نسل کشی کا روڈ میپ دیکھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر ہارون قاسم نے کہا کہ لگتا ہے کہ بھارت مسلمانوں کے قتل عام کے دہانے پر کھڑا ہے۔
دیپک جوشی نے کہا کہ مسلمانوں، عیسائیوں اور دلتوں کے تئیں سنگھ پریوار کی نفرت کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا جانا چاہئے۔ امریکہ کی تنظیم ہندوس فار ہیومن رائٹس سے وابستہ سنیتا وشواناتھ نے کہا کہ پوری دنیا میں رہنے والے ہندوستانیوں خصوصاً ہندوؤں کو ہندوستان کی خوفناک صورتحال کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے۔
ہری دوار کی دھرم سنسد کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر دستیاب ہیں۔ اس کے بجائے پولیس نے اس معاملے میں کوئی گرفتاری نہیں کی ہے اور صرف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
دنیا بھر میں مقیم سمندر پار ہندوستانیوں کی جانب سے میڈیا کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت ہند آمریت میں ڈوبی ہوئی ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی نسل کشی کی بیان بازی پر خاموش ہیں اور اس سے نفرت کی قوتوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
این آر آئیز نے کہا کہ وہ اس پر خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ عالمی برادری کو بھی اس کے خلاف آگے آنا چاہیے۔ دنیا بھر میں پھیلے این آر آئیز کے 28 گروپوں نے اپنی آواز بلند کی ہے۔ ان میں انٹرنیشنل کونسل آف انڈین مسلمز، دلت سالیڈیٹری فورم، ہندوس فار ہیومن رائٹس وغیرہ شامل ہیں۔











