نئی دہلی؍ لکھنؤ :(ایجنسی)
منگل کو یوپی میں انتخابی منظر مکمل طور پر بدل گیا۔ پارٹی میں بھگدڑ مچ چکی ہے۔ دہلی میں بی جے پی کور گروپ کی میٹنگ میں منتھن شروع ہو گیا ہے۔ وزیر داخلہ امت شاہ بھی سرگرم ہو گئے ہیں۔ ادھر بی جے پی اور وزارتی عہدہ چھوڑنے والے سوامی پرساد موریہ نے بی جے پی کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب میری حیثیت کا پتہ چل جائے گا۔ میں بی جے پی کی حکومت نہیں بننے دوں گا۔
سوامی پرساد موریہ نے آج صبح وزیر کے عہدے سے استعفیٰ گورنر کو بھیج دیا تھا۔ اس کے بعد وہ ایس پی صدر اکھلیش یادو کے پاس پہنچے اور ایس پی میں شامل ہو گئے۔ موریہ کے آنے کے کچھ ہی دیر بعد بی جے پی کے ممبران اسمبلی کے استعفے شروع ہو گئے۔ ان میں سے زیادہ تر پسماندہ طبقات کے رہنما ہیں۔ یوپی حکومت کے مختلف بورڈز اور کارپوریشنوں میں ممبر کے طور پر نامزد پسماندہ طبقات کے لیڈروں نے بھی استعفیٰ دے دیا ہے۔
وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ بی جے پی کے کور گروپ کے ارکان کی میٹنگ امیدواروں کے ناموں کے انتخاب کے لیے پہلے سے ترتیب دی گئی تھی۔ لیکن جب یہ طے ہوئی تھی، استعفوں کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا۔ بی جے پی کی 24 رکنی الیکشن کمیٹی کی میٹنگ کل لکھنؤ میں ہوئی تھی۔ اس میں اسمبلی کے پہلے دو مرحلوں کے امیدواروں کے ناموں کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کمیٹی کو دہلی آکر امت شاہ سے بات کرنی تھی۔ وہ کمیٹی آج آئی ہے۔ میٹنگ میں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی موجود تھے۔ یوپی کے لیے بنائے گئے بی جے پی کور گروپ کے ارکان بھی اس میٹنگ میں شامل تھے۔
یہ میٹنگ جاری تھی ،جب سب سے پہلے وزیر سوامی پرساد موریہ کے استعفیٰ کی خبر آئی۔ پھر کئی ممبران اسمبلی کے پارٹی چھوڑنے کی خبر آئی۔ میٹنگ کا ایجنڈا فوراً بدل گیا۔ ذرائع کے مطابق امت شاہ نے کیشوپرساد موریہ سے کہاکہ وہ دیگر او بی سی ممبران اسمبلی سے فوراً رابطہ کریں ۔ ہر ایک کا من ٹٹولاجائےاور انہیں کسی نہ کسی طرح روکا جائے۔ شاہ نے موریہ سے یہ بھی کہا کہ وہ سوامی پرساد موریہ کو منانے کی کوشش کریں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کے بعد کیشو موریہ نے سوامی پرساد موریہ سے فون پر رابطہ کیا لیکن ان کی بات چیت نہیں ہو سکی۔
بی جے پی کی قومی قیادت یوپی میں ہونے والی پیش رفت سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ سوامی پرساد موریہ نے اپنے موقف سے واضح کیا تھا کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا رویہ ان کے ساتھ ٹھیک نہیں ہے۔ دونوں کے درمیان بحث ہوتی رہی یہاں تک کہ بات چیت رک گئی تھی۔
کچھ دیگر وزراء اور ایم ایل اے نے بھی یوگی کے رویے پر وقتاً فوقتاً اعتراضات اٹھائے تھے۔ اس کے بعد یوگی کو ہٹانے کی بات ہوئی تھی، لیکن آر ایس ایس کی ہدایات ایسی تھیں کہ یوگی کو نہیں ہٹایا جا سکتا تھا۔ اس کے بعد وزیر اعظم مودی نے خود یوپی کی مہم کی باگ ڈور سنبھالی۔ ایک درجن کے قریب ریلیاں کیں۔ ٹی وی چینلوں پر ماحول بی جے پی کے حق میں نظر آرہا تھا لیکن اب جب زمینی حقیقت سامنے آرہی ہے تو بی جے پی کی اعلیٰ قیادت پریشان ہے۔ مودی اور امت شاہ نے اکھلیش کا نام لے کر تابڑ توڑ حملے کیے، الزامات لگائے، ایس پی تاجروں کے حامیوں پر چھاپے بھی مارے گئے، لیکن یوپی کی زمینی لڑائی میں اکھلیش ہی آگے دکھائی دے رہے ہیں۔

سوامی پرساد موریہ کا حملہ
سوامی پرساد موریہ نے وزارتی عہدہ چھوڑ کر ایس پی میں شامل ہونے کے بعد بی جے پی پر سخت حملہ کیا۔ اس حملے میں ان کے الفاظ کا انتخاب اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بہت سی باتیں کہی ہیں لیکن ہم یہاں صرف چند منتخب مکالمے دے رہے ہیں۔
موریہ نے کہا:’’بی جے پی کو اب پتہ چل جائے گا کہ سوامی پرساد موریہ کون ہیں۔ بی جے پی کو 2022 میں میری حیثیت کا پتہ چل جائے گا۔‘‘
’’آگے کی وار دیکھتے رہیں۔ ابھی تو 10-12 بی جے پی ایم ایل اے اور بھی ٹوٹ جائیں گے۔ بی جے پی کسی کو نہیں روک پائے گی۔‘‘
’’میں جہاں رہوں گا، وہاں حکومت بنے گی۔ میرے لیے عزت سے بڑھ کر کوئی چیز اہم نہیں۔ بی جے پی میں میری کوئی عزت نہیں ہے۔‘‘
سوامی پرساد موریہ نے یہ بھی واضح کر دیا کہ اب کوئی بھی منائے، میں نہیں ماننے والا۔ میں اکھلیش یادو اور ایس پی کا دامن تھام لیا ہوں ۔ مجھے اپنے سماج کی بھی فکر ہے۔ بی جے پی کی پالیسیاں خطرناک ہے۔ اس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اتنے دنوں تک وہاں رہنے کے بعد سمجھ آگیا ۔ یہ پارٹی سماجی بھائی چارہ توڑنا چاہتی ہے۔ میں جس جگہ سے آتا ہوں وہاں سے یہ سب نہیں چلتا۔
بی جے پی اس وقت یوپی میں دباؤ میں ہے۔ وزیر اعظم مودی اور امت شاہ کی ریلیوں، ایس پی کو کرپٹ ثابت کرنے کے لیے چھاپے مارے جانے کا اثر اس وقت صفر نظر آرہا ہے۔ یوپی میں کورونا کے بعد وہاں کی سیاست سب سے زیادہ گرم ہو گئی ہے۔











