نئی دہلی :(ایجنسی)
گِٹ ہب ویب سائٹ پر ’بُلّی بائی‘ نامی ایپ کے ذریعے مسلم خواتین کو نیلام کئے جانے کے خلاف ایپ کے متاثرین، شہریوں، سماجی کارکنان اور وکلاء نے چیف جسٹس آف انڈیا کو خط لکھا ہے۔ اس ایپ کے ذریعے یہ کوشش کی گئی تھی کہ مسلم خواتین کی پرائیویسی، جسمانی خود مختاری اور وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے انہیں فروخت ہوتا دکھایا جائے۔ دہلی اور ممبئی میں اس ایپ کو بنانے والوں کے خلاف کئی شکایتیں درج کرائی گئی ہیں۔ یہ نوٹ کرنا اہم ہے کہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں یہ دوسرا موقع تھا جب مسلم خواتین کو نشانہ بنایا گیا اور اسے ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ممبئی پولیس اور دہلی پولیس نے بُلّی بائی ایپ اور سُلّی ڈیل دونوں کے سلسلے میں گرفتاریاں کی ہیں لیکن یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک بہت وسیع نیٹ ورک کا حصہ ہے اور اس کی تہہ تک پہنچنے کے لیے مکمل تفتیش کی ضرورت ہے۔ پولیس ابھی تک ان انفرادی گرفتاریوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے اور ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس میں ملوث بڑے نیٹ ورک کی تفتیش ہونی چاہیے۔
ملک بھر سے 4463 لوگ جن میں کویتا سریواستوا (پیپلز یونین فار سِوِل لبرٹیز)، تیستا سیتلواڑ (سی جے پی)، ڈاکٹر ایس کیو آر الیاس (ویلفیئر پارٹی آف انڈیا)، شرجیل عثمانی (انفرادی)، صبا دیوان (انفرادی)، ڈاکٹر عامر جیسانی (انفرادی)، کِلفٹن ڈی روزاریو (آل انڈیا لایئرز ایسوسی ایشن فار جسٹس)، وانی سبرامنیم (آزاد فلم ساز)، حسینہ خان (بیباک کلیکٹو)، ڈاکٹر ظفر الاسلام خان (سابق چیئرمین، دہلی اقلیتی کمیشن؍دی ملی گزٹ)، اینی راجہ (این ایف آئی ڈبلیو)، آدتیہ مینن (انفرادی)، میرا سنگھمترا (نیشنل الائنس آف پیپلز موومنٹس، این اے پی ایم)، انگانا چٹرجی (یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے)، ذکیہ سومن (BMMA) اور شمشیر ابراہیم (قومی صدر، فریٹرنٹی موومنٹ) نے سپریم کورٹ کے نام اس کھلے خط پر دستخط کیے ہیں جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ اس معاملے کا نوٹس لے تاکہ جامع اور بروقت تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔ متاثرین کو معاوضہ دیا جائے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں کہ ایسا واقعہ دوبارہ نہ ہو۔ منظم اسلاموفوبیا اور جنسی تشدد سے متاثر خواتین کے ذہنی صحت کے لیے مناسب امداد فراہم کی جائے۔











