مظفر نگر :(ایجنسی)
مظفر نگر میں ایک عورت نے سات لوگوں پر زبردستی مذہب تبدیل کرنے کا الزام لگایا ہے۔ پولیس نے خاتون کی شکایت پر ملزم کے خلاف رپورٹ درج کر کے کلیدیملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔ خاتون نے الزام لگایا ہے کہ اسے مدرسہ میں زبردستی یرغمال بنایا گیا تھا۔
دینک ہندوستان کی رپورٹ کے مطابق نئی منڈی کوتوالی علاقے کے ایک گاؤں کی رہائشی خاتون کا کہنا ہے کہ اس کے شوہر کا سال 2012 میں انتقال ہو گیا تھا۔ وہ سال 2015 میں جانسٹھ بھٹے پر کام کرنے گئی تھی۔ وہاں اس کی ملاقات ملزم انصار ساکن ککڑا سے ہوئی۔ الزام ہے کہ ملزم نے اسے اپنے پیار کے جال میں پھنسا کر زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔ ملزم اسے زبردستی اپنے ساتھ مدرسہ لے گیا اور یرغمال بنا رکھا گیا۔ ملزم اور اس کے ساتھیوں نے اسے زبردستی وہاں مذہب تبدیل کر ادیا۔
مسلسل ہراساں کرنے کا الزام
الزام ہے کہ ملزم اس کے بچوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دے کر واپس جھونپڑی میں لے آیا۔ ملزم اس کے ساتھ جنسی زیادتی کرتا رہا۔ الزام ہے کہ اب ملزم اور اس کے ساتھی اسلم، فرقان، شمیم، نفیس،عیدو اور ایک نامعلوم اسے غلط دھندےمیں دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ متاثرہ نے اس کی اطلاع ہندو جاگرن منچ کے ضلع صدر نریندر پنوار کو دی تھی۔











