نئی دہلی :(ایجنسی)
وشو ہندو پریشد نے ہندوستانی طلباء کو ملک کے ثقافتی ورثے کو صحیح طریقے سے سمجھانے اور انہیں عظیم ہستیوں کے بارے میں ان کو بتانے کے لیے ایک نئی پہل کرتے ہوئے انگریزی حروف تہجی کو ہندوستانی بنا دیا ہے۔ وی ایچ پی نے اسے ایک نئے انداز میں سکھانے کے لیے پورے حروف تہجی کو تبدیل کر دیا ہے اور ہر حرف کے لیے ہندوستانی دیوی دیوتاؤں اور عظیم ہستیوں کے نام رکھے ہیں۔ جیسے A سے امبیڈکر، B سے بھگت سنگھ، C سے چانکیہ، D سے دیانند وغیرہ۔ اسی طرح وی ایچ پی نے Kسےکلام ،Xسے لکشمن ،Wسے والمیکی ،Yسے یوگا اور Zسے جھولے لال کانام جڑا ہے۔ وی ایچ پی نے A-Zکا نیا چارت تیار کیاہے۔ اب وی ایچ پی سےمنسلک اسکولوں میں اسے پڑھایا جائےگا۔
وشو ہندو پریشد، جو 29 اگست 1964 کو قائم ہوئی، ہندوستانی ثقافت اور تہذیب کے بارے میں بیداری لانے کے ساتھ ساتھ ہندو مذہب کے فروغ میں مصروف ہے۔ وشو ہندو پریشد کا رام جنم بھومی تحریک سے گہرا لگاؤ ہے۔ اس کے علاوہ وہ ہندوستانی تاریخ، سماج اور ویدک روایت کے فروغ کے لیے وقتاً فوقتاً طرح طرح کے پروگرام منعقد کرتی رہتی ہے۔
وشو ہندو پریشد کا ایک حصہ بجرنگ دل کا ماننا ہے کہ انگریزی زبان ہندوستانی ثقافت کو تباہ کر رہی ہے، ایسے میں ہندوستانی طلباء کو صحیح زبان اور ثقافت سے متعارف کرانا بہت ضروری ہے تاکہ ان کے ذہنوں میں اپنی زبان کے تئیں لگاؤ پیدا کیا جا سکے۔ اس کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے عظیم انسانوں اور ان کے کاموں کے بارے میں بتائیں۔
وشو ہندو پریشد بھی اسی اصول کے تحت انگریزی حروف تہجی میں ہندوستانی عظیم ہستیوں اور مذہبی کرداروں کو شامل کر رہی ہے۔ اگر انگریزی سیکھنی ہے تو اسے ہندوستانی بنا کر سیکھنا ہوگا، اس لیے ایسا کیا جا رہا ہے۔











