نئی دہلی:(ایجنسی)
اتر پردیش انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہو گیا ہے، اس کے پیش نظر تمام سیاسی جماعتوں نے اپنی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی 20 بار پوری طاقت کے ساتھ یوپی کے انتخابی میدان میں اترچکے ہیں۔ اویسی بی جے پی کے ساتھ ساتھ سماج وادی پارٹی کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران اویسی نے بتایا کہ وہ پی ایم مودی کو موڈی کیوں کہتے ہیں؟
اینکر پنکج جھا نے اے بی پی نیوز کے پروگرام میں پہنچنے والے اویسی سے پوچھا، ’’آپ پہلے مرکز میں کانگریس سے لڑتے تھے اور پھر بی جے پی سے لڑنے لگے۔ اب اترپردیش کے انتخابات میں اکھلیش یادو کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ آپ کے چاہنے والے کہاں ہیں؟ سیاست کی لیلیٰ جویوپی میں اکیلی پڑ گئی ہے۔؟‘‘ اس کے جواب میں اویسی نے کہا کہ آپ کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ ہم سماج وادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کے خواہاں ہیں لیکن اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
انہیں بتایا گیا کہ آپ نے خود اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ بی جے پی اور کانگریس کے علاوہ آپ کا کسی سے اتحاد ہوسکتا ہے؟ اویسی نے کہا، ’’اس کا مطلب یہ نہیں لیا جا سکتا کہ ہم اکھلیش کے ساتھ اتحاد کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہمارے اور ان کے درمیان اتحاد کی کوئی بات نہیں ہوئی۔
کوئی آپ کی طرف ہاتھ کیوں نہیں بڑھا رہا؟ اس سوال پر انہوں نے کہاکہ ہمیں اس سے کوئی پریشانی نہیں، اگر وہ ہمیں اچھوت سمجھتے ہیں تو سمجھ لیں۔ جب انتخابی نتائج آئیں گے تو سب کچھ سمجھ میں آ جائے گا کہ وہ کہاں ہیں اور ہم کہاں ہیں۔ اکھلیش یادو پر حملہ کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ اویسی پر الزام لگے ہوئےہیں ۔ وہ اس لئے کہتے ہیں کیونکہ ان کی پارٹی میں اعظم خاں پر الزام لگا ہے لیکن ان پر نہیں۔
ان سے پوچھا گیا کہ جب وہ حیدرآباد سے لکھنؤ آتے ہیں تو کیسا محسوس کرتے ہیں؟ پی ایم نریندر مودی کا ذکر کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ وہ گجرات سے لکھنؤ آکر محسوس کررہے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ پی ایم مودی کو موڈی کیوں کہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ کیا کہوں ان کو موجی کہوں یا موڈی کہوں۔’ ’وہ ہمارے پی ایم ہیں، ہم ان کو بولتے ہیں۔‘‘











