نئی دہلی :(ایجنسی)
حال ہی میں ہری دوار اور رائے پور میں منعقدہ ’دھرم سنسد‘ اور دہلی میں اقلیتی مسلم کمیونٹی کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے معاملے پر امریکی پارلیمنٹ میں بحث کی جا سکتی ہے۔
انگریزی اخبار ٹیلی گراف میں شائع خبر کے مطابق امریکہ میں مقیم ہندوستانی تارکین وطن گروپوں کے ساتھ ساتھ جینوسائیڈ واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی بین الاقوامی تنظیمیں ہندوستان میں مسلمانوں کی نسل کشی سے متعلق کال پر امریکی پارلیمنٹ میں سماعت کی کوششیں کر رہی ہیں۔
بتادیں کہ حال ہی میں امریکی ہولوکاسٹ میوزیم نے بڑے پیمانے پر قتل کے خطرے سے دوچار ممالک کی فہرست میں ہندوستان کو دوسرے نمبر پر رکھا ہے۔ اس کے بعد سے ایسی کوششوں نے زور پکڑا ہے۔
جینوسائیڈ واچ کے صدر گریگوری اسٹینٹن نے اس بارے میں بیرون ملک مقیم ہندوستانی کمیونٹی سے وابستہ تنظیموں کی طرف سے منعقدہ پارلیمانی بریفنگ میں یہ معلومات دی ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہم دو طرفہ لینٹوس ہیومن رائٹس کمیشن سے پارلیمانی سماعت کا مطالبہ کریں گے۔اس سماعت کا مقصد امریکی پارلیمنٹ میں ایک قرارداد پاس کرانا ہو گا جس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کو وارننگ دی جائے کہ وہ ایسا نہ کریں۔ نسل کشی سے متعلق کالیںکو اکسانا ،جوکہ اپنے آپ میں ایک جرم ہے، بند کرنا ہوگا۔‘‘
نفرت انگیز تقاریر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نسل کشی کوئی واقعہ نہیں بلکہ ایک عمل ہوتا ہے۔
لینٹوس انسانی حقوق کمیشن ایک پارلیمانی انسانی حقوق کاکس ہے جو اقوام متحدہ کی طرف سے اعلان کردہ عالمی انسانی حقوق کے دفاع کے لیے وقف ہے۔
اسٹینٹن نے یہ بھی بتایا ہے کہ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی، جو گزشتہ دو سالوں سے ہندوستان کو ’خاص تشویش والے ملک‘ کے طور پر نشان زد کرنے کی کوشش کر رہا ہے، بھی اس معاملے کی سماعت کر سکتا ہے۔











