لکھنؤ:(ایجنسی)
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ بی جے پی امیدواروں کی پہلی فہرست ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کے نعرے کو عملی جامہ پہناتی نظر آتی ہے۔ ایس پی کو دہلانے والے فسادیوں اورکیرانہ سے نقل مکانی کرانے والے مجرموںکو ٹکٹ دئے ہیں۔
سماج وادی پارٹی کی انتخابی فہرست پر ایک بار پھر مافیا اور مجرموں کا غلبہ ہے۔ لونی ودھان سبھا سے ٹکٹ حاصل کرنے والے مدن بھیا کا شمار مافیا میں ہوتا ہے، یہ بات شاید اکھلیش یادو اور جینت چودھری بھول گئے ہیں۔ مدن بھیا کے خلاف 1982 سے 2021 تک 31 مقدمات درج ہیں جن میں قتل کے مقدمات بھی شامل ہیں۔
انہوں نے مظفر نگر فسادات کے بعد کیرانہ سے ہندو خاندانوں کی نقل مکانی کی یاد دلائی اور کہا کہ وہاں سے ناہید حسن کو ٹکٹ دے کر ایس پی نے اپنا فرقہ وارانہ پہلو سامنے رکھا ہے۔ ناہید حسن کے خلاف شاملی اور سہارنپور اضلاع میں 17 مقدمات درج ہیں۔ اسی طرح بلندشہر سے ٹکٹ لینے والے حاجی یونس کے خلاف 23 فوجداری مقدمات درج ہیں۔سیاناسے الیکشن لڑنےوالےدلنواز کی تاریخ بھی مجرمانہ رہی ہے۔ سی ایم نے کہا کہ ایسے لوگوں کو ٹکٹ دے کر اکھلیش نے واضح کر دیا ہے کہ ایس پی مغربی اتر پردیش کو ایک بار پھر فرقہ وارانہ آگ میں جھونکنے کے لیے تیار ہے۔











