لکھنؤ :(ایجنسی)
اترپردیش اسمبلی انتخابات کو لے کر سیاسی بحث گرم ہے۔ ایسے میں کئی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ اس دوران آج تک نیوز چینل کی اینکر چترا ترپاٹھی کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ اس وائرل ویڈیو میں اینکر یوپی کے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کے ایودھیا سے لڑنے کے فائدے بتا رہی ہیں، وہی گورکھپور سے بھی لڑنے پر فائدے گنارہیہیں۔ اس پر سوشل میڈیا صارفین انہیں ٹرول کر رہے ہیں۔
دراصل، اپنی ایک بحث کے دوران، اینکر کہہ رہی ہے، ’اگر یوگی آدتیہ ناتھ ایودھیا سے الیکشن لڑتے ہیں، تو اس کا اثر نہ صرف ایودھیا بلکہ پورے پوروانچل پر پڑے گا، ڈھائی سے تین گھنٹے میں آپ کار سے گورکھپور سے ایودھیا پہنچ جائیں گے۔ اور اتنے ہی گھنٹے میں آپ لکھنؤ سے ایودھیا پہنچ جائیں گے۔ ‘
اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ اگر امیٹھی کے پاس ایک سیٹ ہے تو سماج وادی پارٹی کو اسے ہلکے سے لینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ بی جے پی کی پہلی فہرست سامنے آنے کے بعد اینکر یہی فائدے سی ایم یوگی کے گورکھپور سے انتخاب لڑنے کو لے کر بتانے لگتی ہیں۔ ایس پی لیڈر راجیو رائے نے اس ویڈیو کو شیئر کرکےلکھا کہ یوپی ایمانداری کے ساتھ ’ ایماندار صحافت‘
عام ٹوئٹر صارفین بھی اس ویڈیو کو شیئر کرکے اینکر پر طنز کرتے نظر آرہے ہیں۔ انیرودھ سنگھ نامی ٹوئٹر ہینڈل نے تبصرہ کیا کہ بنجنگ بھی گورکھپور سے ڈھائی سے تین گھنٹے میں ہوائی جہاز کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہے، اس لیے چین اس وقت گھبرا گیا ہوگا، اگر مہاراج جیت گئے تو قبضہ چھوڑنا پڑے گا۔ رنوجے سنگھ نامی ایک ٹوئٹر ہینڈل نے تبصرہ کیا کہ چٹ بھی میری، پت بھی میری۔
سندیپ سنگھ نامی ٹوئٹر صارف نے تبصرہ کیا – واہ کیا منظر ہے… تانیا یادو نامی ٹوئٹر صارف لکھتی ہیں – ان کے پاس منطق نہیں ہے، ان کے پاس بھکت منطق ہے۔ گیان پرکاش نامی ایک ٹوئٹر صارف لکھتا ہے، ’’مطلب کمپاس کچھ ادھر بھی گھمائیں سوئی شمال کی سمت ہی بتائے گی۔ جانکاری کےلیے بتادیں کہ یوپی سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ گورکھپور شہر سیٹ سے الیکشن لڑیں گے۔ اس سے پہلےقیاس لگائے جارہے تھے کہ سی ایم یوگی ایودھیا یا متھرا سے الیکشن لڑ سکتے ہیں۔











