لکھنؤ :(ایجنسی)
اپرنا یادو کے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہونے کے بعد بی جے پی کی نظریں شیو پال یادو پر ہیں۔ لیکن اس پر شیو پال یادو کی وضاحت بھی آ گئی ہے۔ درحقیقت، یوپی بی جے پی کی جوائننگ کمیٹی کے صدر لکشمی کانت باجپئی نے شیو پال یادو کو ایک سمجھدار لیڈر بتایا تھا اور اشارہ دیا تھا کہ وہ بھی بی جے پی میں شامل ہوسکتے ہیں۔
خبر کے چند ہی گھنٹوں کے اندر شیو پال یادو کی وضاحت آ گئی۔ انہوں نے کہا کہ لکشمی کانت کے اس دعوے میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی میں شامل ہو سکتا ہوں، یہ دعویٰ مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ میں اکھلیش یادو کی قیادت میں سماج وادی پارٹی کے اتحاد کے ساتھ ہوں اور اپنے حامیوں سے ریاست میں بی جے پی حکومت کا تختہ الٹنے اور ریاست میں سماج وادی پارٹی کی مخلوط حکومت بنانے کا مطالبہ کرتا ہوں۔
اس سے پہلے اپرنا یادو بدھ کو دہلی میں بی جے پی میں شامل ہوگئیں۔ اس موقع پر یوپی کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ اور ریاستی صدر سواتنتر دیو سنگھ موجود تھے۔ اپرنا کے بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد آج تک سے بات کرتے ہوئے بی جے پی لیڈر لکشمی کانت باجپئی نے اشارہ دیا تھا کہ ملائم خاندان کا ایک اور رکن بی جے پی میں شامل ہوسکتا ہے۔
لکشمی کانت باجپئی نے کہا تھا کہ مستقبل میں مزید مضبوط لیڈر بی جے پی میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ شیو پال یادو ایک منجھے ہوئے سیاستداں ہیں اور یوپی میں ان کی کافی گرفت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ‘شیوپال ایک سمجھدار شخص ہیں۔ انہیں اپنے سیاسی فیصلے کرنے ہوں گے۔ ایس پی صدر پر حملہ کرتے ہوئے لکشمی کانت نے کہا کہ اکھلیش یادو اپنے خاندان کو ساتھ نہیں رکھ پا رہے ہیں، جس کے بارے میں انہیں سوچنا چاہیے۔
گزشتہ اسمبلی انتخابات سے عین قبل پارٹی میں کافی رسہ کشی ہوئی تھی۔ اس کے بعد چچا شیوپال سنگھ یادو اور بھتیجے اکھلیش یادو کی راہیں جدا ہوگئیں، لیکن اب یوپی الیکشن 2022 سے پہلے صورتحال بدل گئی ہے۔ شیو پال کی طرف سے بنائی گئی پرگتی شیلسماج وادی پارٹی کا بھی ایس پی کے ساتھ انتخابی اتحاد ہے۔
یوپی میں کل 403 سیٹیں ہیں۔ یہاں سات مرحلوں میں پولنگ ہونی ہے۔ ان مراحل کے تحت ووٹنگ 10 فروری، 14 فروری، 20 فروری، 23 فروری، 27 فروری، 3 مارچ اور 7 مارچ کو ہوگی۔ باقی ریاستوں (پنجاب، منی پور، اتراکھنڈ اور گوا) کے ساتھ 10 مارچ کو نتائج سامنے آئیں گے۔











