نئی دہلی:(ایجنسی)
کانگریس پارٹی نے واضح کیا ہے کہ اگر انتخابات کے بعد ضرورت پیش آئی تو ان کی پارٹی مخلوط حکومت میں شامل ہوسکتی ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے خود کہا ہے کہ پارٹی اپنے ایجنڈے کی شرط پر ایسا کرسکتی ہے۔ یوپی میں 20 لاکھ نوجوانوں کو سرکاری نوکریوں کا وعدہ کرتے ہوئے بھرتی ودھان جاری کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ اگر انتخابات کے بعد کسی بھی پارٹی کو اکثریت نہیں ملتی ہے تو کانگریس مخلوط حکومت میں شامل ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس مخلوط حکومت میں شامل ہوتی ہے تو نوجوانوں اور خواتین سے متعلق اس کے ایجنڈے کو پورا کیا جائے گا۔ ان کی بات سے صاف ہے کہ انتخابات کے بعد ایس پی اور آر ایل ڈی اتحاد کو اکثریت نہ ملنے کی صورت میں وہ ان کے ساتھ جا سکتی ہیں۔
پرینکا گاندھی سے پوچھا گیا کہ اگر یوپی میں کسی پارٹی کو اکثریت نہیں ملتی ہے تو کیا کانگریس اتحاد کے لیے تیار ہے؟ پرینکا نے کہا، ’جب ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو اس کا فیصلہ کیا جائے گا، لیکن پھر بھی اگر ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے اور ہم کسی مخلوط حکومت میں شامل ہوتے ہیں یا اس کی حمایت کرتے ہیں، تو ہم چاہیں گے کہ ہم نے خواتین اور نوجوانوں کے لیے جو ایجنڈا بنایا ہے، وہ مکمل ہو۔یہ ہماری شرط ہو گی۔ خاص طور پر خواتین والی ۔‘
کیا پرینکا گاندھی چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ اور ایس پی صدر اکھلیش یادو کی طرح الیکشن لڑیں گی؟ اس کے جواب میں، کانگریس جنرل سکریٹری نے ایک بار پھر کہا، ’جب فیصلہ ہو گا تو آپ کو پتہ چل جائے گا۔ ہم نے ابھی تک اس کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔کیا آپ کانگریس کا چہرہ بنیں گے؟ پرینکا نے کہا-’کیا آپ کو یوپی میں کانگریس پارٹی سے کسی اور کا چہرہ نظر آ رہا ہے؟‘ یہ پوچھےجانے پر کہ کیا آپ ہوں گی چہرہ؟ کانگریس لیڈر نے کہاکہ نظر تو آرہاہے نا ہے طرف میرا چہرہ ۔‘











