نئی دہلی:(ایجنسی)
ہری دوار میں منعقد دھرم سنسد کے معاملے میں اب ہندو سینا بھی سپریم کورٹ پہنچ گئی ہے اور دھرم سنسد میں نفرت انگیز تقاریر کی کارروائی کی مخالفت کی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر دھرم سنسد معاملے میں کارروائی کی جاتی ہے تو نفرت انگیز تقریر پر مسلم لیڈروں کو بھی گرفتار کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ عرضی میں ہندو سینا کو فریق بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ہندو سینا کے صدر وشنو گپتا کی طرف سے داخل کی گئی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومتوں کو ہدایت کی جائے کہ وہ نفرت انگیز تقریر کرنے پر اسد الدین اویسی، مولانا توقیر رضا، مولانا ساجد رشیدی، امانت اللہ خان، وارث پٹھان کے خلاف ایف آئی آر درج کریں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار صحافی قربان علی کا تعلق مسلم کمیونٹی سے ہے۔ انہیں ہندو دھرم سنسد سے متعلق معاملات یا سرگرمیوں پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔ ہندوؤں کے روحانی پیشواؤں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندو روحانی رہنماؤں کی طرف سے دھرم سنسد کے انعقاد کو کسی دوسرے مذہب یا عقیدے کے خلاف نہیں سمجھا جا سکتا اور نہ ہی سمجھا جانا چاہیے۔ مذہبی رہنماؤں کے بیانات غیر ہندو برادری کے ارکان کی طرف سے ہندو ثقافت اور تہذیب پر حملوں کے جواب میں تھے اور اس طرح کے جوابات’نفرت انگیز تقریر‘ کے دائرے میں نہیں آئیں گے۔
جب تک انکوائری آفیسر کی طرف سے تفصیلی انکوائری نہیں کی جاتی، درخواست گزار کی طرف سے مبینہ نفرت انگیز تقریر کا پتہ نہیں لگایا جا سکتا ہے۔ ہر بیان کو نفرت انگیز تقریر نہیں سمجھا جا سکتا۔ ہندوستان کا آئین تمام مذاہب کے ماننے والوں کو یکساں تحفظ فراہم کرتا ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے، اس ملک کے ہر شہری کو ضمیر، عمل اور مذہب کی تبلیغ کی آزادی ہے۔ ہندوؤں کی طرف سے دھرم سنسد کے انعقاد کو ہندوستان کے آئین کا تحفظ حاصل ہے، اس لیے کیس میں درخواست گزار کا اعتراض آئینی حقوق کے خلاف اور ہندوؤں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
غور طلب ہے کہ گزشتہ ہفتے اتراکھنڈ پولیس نے یتی نرسنگھانند اور جتیندر نارائن تیاگی (عرف وسیم رضوی) کودھرم سنسد میں نفرت انگیز تقریر کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا۔ درحقیقت صحافی قربان علی اور پٹنہ ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس انجنا پرکاش کی طرف سے دائر ایک رٹ پٹیشن میں چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمن، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی کی بنچ نے مرکز، دہلی پولیس اور اتراکھنڈ حکومت کو نوٹس جاری کیا۔ 12 جنوری کو ان سے جواب طلب کیا ہے۔











