بھوپال؍ساگر :(ایجنسی)
مدھیہ پردیش کے ساگر ضلع کے بنڈا تھانہ علاقے کے گاؤں گنیاری میں گاؤں کے کچھ لوگوں نے پرانی روایت کو توڑنے کے نام پر دولہا کے گھر پر پتھراؤ کیا اور باہر کھڑی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ضلع کی بھیم آرمی کے ارکان اور مقامی پولیس نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر مدد کی اور شادی کی رسم انجام دی گئی۔ اس دوران پولیس نے بدامنی پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی شروع کردی ہے۔
تفصیلات کےمطابق اتوار 23 جنوری کو گنیاری گاؤں کے دلیپ اہیروار کی شادی تھی اور وہ گھوڑے پر بیٹھ کر پوجا کرنے جا رہے تھے۔ گاؤں میں ایک فریق کا کہنا ہے کہ پرانی روایت چلی آ رہی ہے کہ دلت سماج کے دولہے کو گھوڑے پر نہیں بٹھایا جاتاہے۔ اس بات پر تنازع شروع ہو گیا۔
شام کو بارات گاؤں سے چلی گئی، اس کے بعد گاؤں کے کچھ سماج دشمن عناصر کے ذریعہ شادی والے گھر اورآس پاس کے گھروںپر پتھراؤ کیا گیا اورگاڑی میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ ہنگامہ ہونے پر بھاری پولیس فورس موقع پر پہنچ گئی۔
بھیم آرمی اور پولیس کی مدد سے نکالی گئی بارات

اس معاملے میں بھیم آرمی بھی سرگرم ہوئی اور اس کے بعد پولیس اور بھیم آرمی کے ارکان کی نگرانی میں دولہے کی بارات نکالی گئی۔
بھیم آرمی کے ضلع صدر دھرمیندر اہیروار نے کہا کہ اس معاملے میں مجھ سے مدد مانگی گئی۔ میں نے پولیس انتظامیہ سے مدد مانگی اورضلع کےبھیم آرمی کی پوری ٹیم یہاں پر پہنچ گئی۔ اس کے بعد ہم نے دولہے کو گھوڑے پر بیٹھا کر بارات نکالی۔
ہمارے گاؤں میں پرانی روایت چلی آ رہی ہے کہ شادی کے دوران اہیروار برادری کے دولہے کو گھوڑے پر بارات نہیں نکالی جاتی، لیکن آج بھیم آرمی کی مدد سے ہم ایسا کرسکے۔
ساگر کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) وکرم سنگھ نے بتایا کہ گاؤں کے کچھ لوگوں نے پتھراؤ کرکے دولہا کے گھر میں توڑ پھوڑ کی۔ گاؤں میں سیکورٹی کے لیے پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔
وکرم سنگھ، ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے بتایا کہ 323، 294، 148، ایچ سی ؍ایس سی ایکٹ اور دیگر تمام دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس ایٹروسٹی ایکٹ کے تحت معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے، تحقیقات کے بعد کارروائی مکمل کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں پرمود کی شکایت پر 20 سے زائد ملزمان کے خلاف فساد سمیت دیگر دفعات میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ملزم دھرمیندر لودھی سمیت دیگر کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور کچھ مشکوک لوگوں سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔











