جے پور :(ایجنسی)
ایک طرف جہاں بہار میں طلبہ امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف مشتعل ہیں تو اب راجستھان سے بھی ایسا ہی ایک واقعہ سامنے آیا ہے۔ راجستھان میں اساتذہ کی اہلیت کا امتحان ‘REET’ پاس کرنے والے تقریباً 11 لاکھ امیدواروں کے مستقبل پر تلوار لٹک گئی ہے۔
اس معاملے میں اسپیشل آپریشن گروپ (SOG) نے انکشاف کیا ہے کہ REET امتحان کا سوالیہ پرچہ امتحان سے ایک دن پہلے پیپر لیک کرنے والے گروہ کے پاس پہنچ گیا تھا۔ کلیدی ملزم رام کرپال مینا نے امتحان سے قبل 25 ستمبر 2021 کو ادارام کو پیپر دیا تھا اور ادارام نے یہ پرچہ بھجن لال وشنوئی کو دیا تھا۔
اب تک 35 ملزمان گرفتار
ایس او جی اوراے ٹی ایس کے اے ڈی جی اشوک راٹھور نے کہاکہ ایس او جی ادارام اور رام کرپال مینا سے پوچھ گچھ کر رہی ہے اور اس کیس سے جڑے گروہ کے دیگر ملزمان اور پیپر لیک سے فائدہ اٹھانے والوں کے بارے میں معلومات حاصل کر رہی ہے۔ اس معاملے میں اب تک کل 35 ملزمین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار ملزمان سے پیپر لیک کیس سے متعلق دیگر ملزمان کے بارے میں گہری پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ ان سے اس بات کا پتہ لگایا جار ہاہے کہ پیپر باہر آنے کےبعدکن کن لوگوں تک پہنچا اورکتنے طلبہ نے اس کا فائدہ اٹھایا تھا۔
غور طلب ہے کہ ایس او جی نے اس معاملے میں اب تک 35 ملزمان کو گرفتار کیا ہے اور مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔
راٹھور نے بتایا کہ رام کرپال مینا تروینی نگر میں شیو شکتی اسکول اینڈ کالج کے ڈائریکٹر ہیں۔ ایس او جی کے مطابق، رام کرپال کا کالج پہلے ہی بلیک لسٹ میں تھا، پھر بھی ان کے کالج کو ایگزام سینٹرالاٹ کیا گیا۔ راٹھور نے بتایا کہ ایس او جی نے حال ہی میں REET امتحان کے پیپر آؤٹ کیس میں مرکزی ملزم بھجن لال کو گرفتار کیا ہے۔
اس سے پوچھ گچھ کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ پیپر بھجن لال وشنوئی کو ادارام وشنوئی نے دیا تھا اور ادارام رام کو کرپال مینا نے دیا تھا۔ معاملہ کے تار ایگزام کرانے والوں تک پہنچانے کے بعد ایس او جی کی ٹیم نے اجمیر بورڈ کے دفتر جاکر ریٹ ایگزام کے بورڈ صدرکے کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر ڈی پی جارولی سے سوال وجواب پوچھے اورکچھ دستاویزات ضبط کرلئے۔
راجستھان حکومت پر بی جے پی حملہ آور
جارولی تک ایس او جی کی پوچھ گچھ سے یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ جانچ کے دوران برے عہدوں کو بھی شک کے دائرے میں رکھا جارہاہے۔ وہیں بی جے پی نے اس معاملے کی سی بی آئی سے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ REET ایگزام میں SOG کے انکشاف کے ساتھ ہی بی جے پی نے ریاستی حکومت پر سخت حملہ کیا ہے۔
بی جے پی لیڈروں نے کہا کہ اب اس معاملے کے تار بڑے بڑے لوگوں اور عہدیداروں تک پہنچ چکے ہیں، اس لیے ریاستی حکومت کو معاملے کی جانچ سی بی آئی کو دینی چاہیے۔
بی جے پی کے راجیہ سبھا ایم پی ڈاکٹر کیروڑی لال مینا، اپوزیشن کے ڈپٹی لیڈر راجندر راٹھور اور بی جے پی کے ریاستی صدر ستیش پونیا نے جمعرات کو میڈیا کو بتایا کہ جس طرح سے آر ای ای ٹی امتحان میں نقل کرنے والے منظم گروہ نے راجستھان کے بے روزگار نوجوانوں کے ساتھ جعل سازی کیا ،یہ بدقسمتی اور تشویشناک ہے۔ اور ریاستی حکومت کے نظام پر سوال کھڑا کرتاہے۔
پونیا نے کہا کہ راجستھان حکومت نے ریاست کے کسانوں اور نوجوانوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے اور عوام کو امن و امان کے مسئلہ پر عوام کی حفاظت کے معاملے میں الجھن میں ڈال رکھا ہے۔
راجستھان کے لاکھوں بے روزگاروں نے اپنے والدین کے خوابوں کو پورا کرنے کی خواہش کے ساتھ امتحان دیا، ان تمام امتحانات میں REET- JEN، سب انسپکٹر، ان تمام امیدواروںکو لے کر سوال کھڑے ہوئے۔ بی جے پی ریاستی صدر نے کہاکہ یہ ایک تضاد ہے، اس وقت کے وزیر تعلیم گووند دوتاسرا کہتے تھے کہ پیپر لیک نہیں ہوا، صرف اپوزیشن اسے ایشو بنا رہی ہے، لیکن ایس او جی کی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ پیپر لیک ہوا تھا۔
11 لاکھ امیدواراہل قرار
واضح رہے کہ 26 ستمبر 2021 کو منعقدہ REET امتحان کا نتیجہ صرف 36 دن کے اندر جاری کیا گیا تھا۔ اس بار 26 لاکھ سے زیادہ امیدواروں نے REET کے لیے درخواست دی تھی۔ اس میں سے 11 لاکھ چار ہزار 216 کو اہل قرار دیا گیا ہے۔
ان میں سے 3 لاکھ 3 ہزار 604 کو لیول 1 اور 7 لاکھ 73 ہزار 612 کو لیول ٹو کے لیے اہل قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے 31 ہزار اساتذہ کو میرٹ کی بنیاد پر آسامیاں دینے کا عمل جاری ہے۔











