دیوبند(سمیر چودھری)
اترپردیش اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی تشہیری مہم کے لئے مغربی یوپی میں نکلے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا دیوبند کا پہلا دورہ بدانتظامی کی نذر ہوگیا، بدانتظامی کے سبب وزیر داخلہ امت شاہ کافی ناراض دکھائی دیئے اور محض چند منٹ بعد ہی وہ اپنے دورہ درمیان میں چھوڑ کر سہارنپور کے لئے روانہ ہوگئے،جس کے سبب یہاں کارکنان اور ان کے استقبال میں کھڑے لوگوں کو مایوسی ہوئی۔
پروگرام کے مطابق آج وزیر داخلہ امت شاہ آج دوپہر ڈھائی بجے دیوبند پہنچے اور یہاں سے عوامی رابطہ مہم کے تحت انا ج منڈی کے راستہ مین بازار میں لوگوں ،تاجروں اور دکاندارں سے رابطہ کرنا تھا لیکن بد انتظامی اور بھیڑ کے سبب وزیر داخلہ امت شاہ ایم بی ڈی چوک سے محض چند قدم دور چل کر لوگوں سے رابطہ کرسکے ،اس دوران بھیڑ کے سبب ہوئی بدانتظامی کے سبب وزیر داخلہ کا پارہ ہائی ہوگیا اوروہ کافی ناراض دکھائی دیئے،جس کے بعد انہوں نے اپنا دورہ درمیان میں ہی چھوڑ دیا اور سہارنپور کے لئے روانہ ہوگئے۔ وہیں کووڈ پروٹول اور ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اڑی۔حالانکہ اس سے قبل انہوں نے کچھ دکانداروں اور لوگوں کے درمیان بی جے پی کے تشہیری پمفلٹ تقسیم کئے اور لوگوں سے بی جے پی کو کامیاب بنانے کی اپیل کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی کو تنقید کانشانہ بنایا ۔
وزیر داخلہ امت شاہ کی آمد کے سبب یہاں سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے اور بازاربی جے پی کے جھنڈوں سے بھردیئے گئے تھے، لیکن پروگرام کے دوران ہوئی بدانتظامی کے سبب وزیر داخلہ یہاں تک نہیں پہنچ سکے اور واپس لوٹ گئے،جس کے سبب پھول مالائیں،پگڑی اور شال وغیرہ لے کر ان کے استقبال کی تیاریاں کررہے کارکنان اور تاجروں کو کافی مایوسی کا سامنا کرناپڑا۔ وزیر داخلہ محض پندرہ منٹ دیوبند میں رکے،اس دوران وزیر داخلہ کے تیور کافی سخت دکھائی دیئے ،حالانکہ بی جے پی کارکنان نے اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے پوری طاقت جھونک دی تھی اور صبح سے ہی کارکنان ان کے انتظار میںکھڑے تھے،لیکن انہیں مایوس ہوئی ۔
ادھر وزیر داخلہ امت شاہ کے پروگرام میں ہوئی بد انتظامی کولے کر ہندو جاگر منچ نے سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی اور انتظامیہ کو اس کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا۔ میٹنگ میں منچ کے صوبائی نائب صدر ٹھاکر سریندر سنگھ نے کہاکہ وزیر داخلہ کے پروگرام میں بد انتظامی مقامی انتظامیہ کی لاپروائی کا نتیجہ ہے، جس کے سبب کارکنان کو سخت مایوسی ہوئی ہے، انہوںنے کہاکہ امت شاہ کا اس طرح دیوبند سے واپس لوٹنا دیوبند کے عوام کے لئے افسوس کی بات ہے۔ اس دوران دیگر کارکنان موجودرہے۔
اس سے قبل مظفرنگر میںامت شاہ نے سماجوادی پارٹی اور آر ایل ڈی پر جم کر نشانہ سادھا اور لوگوںسے بی جے پی کو ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ اگر سماجوادی پارٹی کو ووٹ دیا گیا تو ایک مرتبہ پھر مظفرنگر فسادات کی آگ میں جل اٹھے گا۔











