رام پور:(آر کےبیورو)
اترپردیش اسمبلی انتخابات کےدوران سماج وادی پارٹی کے قد آور لیڈر اور رام پور سے ممبرپارلیمنٹ اعظم خاں اوران کے صاحبزادے عبداللہ اعظم خاں کافی سرخیوں میں ہیں۔ دراصل عبداللہ اعظم نے 2019 میں غلط برتھ سرٹیفکیٹ پیش کرنے کی وجہ سے اپنا ایم ایل اے کا عہدہ کھو دیا تھا۔ ساتھ ہی اس بار بھی کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا خدشہ تھا۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق جانچ کے بعد نہ صرف اعظم خاں بلکہ ان کے بیٹے عبداللہ اعظم کی نامزدگی بھی درست پائی گئی ہے۔ صاف ہے کہ اسمبلی انتخابات میں دونوں ایس پی کے ٹکٹ پر انتخابی میدان میں تریں ہیں۔ سماج وادی پارٹی نے رام پور سیٹ سے اعظم خاں اور سوار اسمبلی سیٹ سے عبداللہ اعظم کو ایک بار پھر میدان میں اتارا ہے۔
بتا دیں کہ اس بار اعظم خاں جیل سے الیکشن لڑ رہے ہیں اور ان کا مقابلہ رام پور کے نواب کاظم علی خاں سے ہوگا۔ کانگریس نے رام پور کے نواب کو میدان میں اتارا ہے۔ یہی نہیں نواب خاندان اور اعظم پریوار کے درمیان کافی عرصے سے عداوت چلی آرہی ہے۔ اس کے علاوہ عبداللہ اعظم خاں کا مقابلہ نواب کاظم علی خاں کے بیٹے اور بی جے پی کےاتحادی اپنادل (ایس) کے امیدوار حیدر علی خان سے ہوگا۔ بتا دیں کہ حیدر کے والد کی شکایت کے بعد ہی عبداللہ کا ایم ایل اے کا عہدہ غلط برتھ سرٹیفکیٹ کی وجہ سے ختم ہو گیا تھا۔ دراصل کاظم علی نے پچھلی بار بی ایس پی کے ٹکٹ پر سوار سے لڑے تھے اور عبداللہ کے سامنے انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہی نہیں نواب کاظم علی خان کے علاوہ بی جے پی کے آکاش سکسینہ بھی رام پور میں اعظم کو گھیر رہے ہیں۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ اعظم خاں کے ساتھ سکسینہ پریوار کا سیاسی جھگڑا بہت پرانا ہے۔
پہلے تو اعظم خاں کا دبدبہ صرف رام پور سیٹ پر تھا لیکن 2017 کے انتخابات میں انہوں نے ضلع کی سوار سیٹ پر بھی اپنی طاقت ثابت کی تھی۔ سوار سے اعظم کے بیٹے عبداللہ اعظم نے بھاری مارجن سے الیکشن جیتا تھا۔ عبداللہ اعظم نے نواب کاظم علی خان کو شکست دی تھی۔ خان 2002 سے مسلسل یہاں سے ایم ایل اے تھے۔ عبداللہ کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد اب نواب کاظم علی عرف نوید میاں اس کی کسر رام پور میں اعظم خاں سے نکالنے کے لیے بے تاب ہیں۔ وہ رام پور سے کبھی نہیں لڑے، لیکن اس بار وہ کانگریس سے تال ٹھوک رہے ہیں۔
سکسینہ پریوار کی بچھگئی بساط ؟
اعظم خان کے ساتھ سکسینہ پریوار کی سیاسی دشمنی بہت پرانی ہے۔ شیو بہادر سکسینہ ضلع میں بی جے پی کے پہلے پرچم بردار تھے۔ جب اعظم خاں پہلی بار رام پور سے لڑے تھے تو شیو بہادر سکسینہ نے بی جے پی سے ٹکر دی تھی۔ جب انہیں مسلسل شکست ہوئی تو وہ اپنی نشست بدل کر سوار ٹانڈہ چلے گئے۔ وہاں سے وہ 1989، 1991، 1993 اور 1996 میں چار بار بی جے پی کے ایم ایل اے کے طور پر منتخب ہوئے۔ نواب کاظم علی خاں نے 2002 میں اس پرانی بی جے پی کے جیت کے رتھ کو روکا۔ اب شیو بہادر سکسینہ کے بیٹے آکاش سکسینہ رام پور میں اعظم خاں کو چیلنج کر رہے ہیں۔ انہیں بی جے پی نے لڑایا ہے۔ آکاش سکسینہ نے اعظم خاں کے خلاف 33 مقدمات درج کرائے ہیں۔











