نئی دہلی:(ایجنسی)
عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال نے تبدیلی مذہب کو لے کر بڑا بیان دیا ہے۔ ہفتہ کو جالندھر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے کہا کہ جبری تبدیلی مذہب کے خلاف قانون بنایا جانا چاہئے اور کسی کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ طور پر ہراساں نہیں کیا جانا چاہئے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ ہماچل پردیش، مدھیہ پردیش، کرناٹک، اترپردیش سمیت کئی ریاستوں نے جبری تبدیلی مذہب کو روکنے کے لیے قانون بنائے ہیں۔ آسام سمیت کئی دیگر ریاستوں میں حکومت جبری تبدیلی مذہب کے خلاف قانون لانے پر غور کر رہی ہے۔
اروند کیجریوال نے جالندھر میں کہا کہ ’’مذہب کسی بھی شخص کا ذاتی معاملہ ہے۔ ہمارے ملک میں ہر ایک کو اپنی پسند کے مطابق عبادت کرنے کا حق ہے۔ زبردستی تبدیلی مذہب کے خلاف قانون ضرور بنایا جائے لیکن اس کے ذریعے کسی کو غلط طریقے سے ہراساں نہ کیا جائے۔ خوفزدہ کرکے تبدیلی مذہب غلط ہے۔‘‘











