نئی دہلی(ایجنسی)
وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے آج لوک سبھا میں اگلے مالی سال کا مرکزی بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسے مجموعی بہبود کے مقاصد کے ساتھ تیار کیا گیا ہے، جس میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور غریبوں کے استعداد کار میں اضافہ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
ہر گھر نل سے جل یوجنا کے لئے 60 ہزار کروڑ روپے کا الاٹمنٹ
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا ہے کہ ہر گھر نل سے جل یوجنا کے تحت پچھلے دو سال کے دوران ساڑھے پانچ کروڑ گھروں کو جوڑا گیا ہے اور سال 23-2022 کے بجٹ میں اس منصوبے کےلئے 60 کروڑ روپے کا الاٹمنٹ کیا گیا ہے محترمہ سیتارمن نے منگل کو لوک سبھا میں مال سال 23-2022 کےلئے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے تحت اب تک کُل ساڑھے آٹھ کروڑ سے زیادہ گھروں کو جوڑا گیا ہے اورپچھلے دو سال کے دوران اس سے ساڑھے پانچ کروڑ کنبے جڑے ہیں۔انہوں کہا،’’ہر گھر نل سے جل ‘ کے تحت اب تک 8.7 کروڑ گھروں کو جوڑا جا چکا ہے جن میں سے پچھلے دو سال کے دوران 5.5 کروڑ گھروں تک نل سے جل پہنچانے کا انتظام کیا گیا ہے۔محترمہ سیتارمن نے کہا کہ سال 23-2022 کےلئے 3.8کروڑ گھروں تک نل سے جل پہنچانے کےلئے 60 ہزار کروڑ روپے کا التزام کیا گیا ہے۔
دفاعی شعبے میں 68 فیصد خریداری گھریلو کمپنیوں سے کی جائے گی
حکومت نے میک ان انڈیا کی بنیاد پر دفاعی شعبے میں خود کفیل ہونے (آتم نربھرتا) کی طرف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے خریداری کے بجٹ کا 68 فیصد ملکی کمپنیوں کے لیے مختص کیا گیا ہے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے منگل کو لوک سبھا میں مالی سال 2022-23 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملکی کمپنیوں سے دفاعی شعبے میں فکسڈ پرچیز (متعینہ خریداری)بجٹ کا 68 فیصد حصہ خریدنے کا التزام کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ نجی شعبے کی حصہ داری کو بڑھانے کے لیے بھی ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہےجس کے تحت بجٹ میں دفاعی تحقیق اور ترقی کے لیےمتعین الاٹمنٹ کی 25 فیصد رقم نجی شعبے کے ساتھ تعاون میں خرچ کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نجی کمپنیوں کے لیے نئی ٹیکنالوجی کے ٹیسٹ اور اس کے تصدیق کے لیے ایک خود مختار ادارہ شکیل دیا جائے گا۔
کسانوں تک تکنیک پہنچانے کی سمت میں بھی کام کرنے کا اعلان
ملک کی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے آج عام بجٹ 2022 پیش کر دیا۔ اس دوران انہوں نے متعدد اعلانات کئے اور اس بجٹ کو آئندہ 25 برسوں کے لئے بنیاد قرار دیا۔ آئیے جانتے ہیں کہ بجٹ کے دوران ملک کے کسانوں کے لئے کیا کیا اعلانات کئے گئے۔
نرملا سیتارمن نے کہا کہ کسانوں کے کھاتوں میں 2.37 لاکھ کروڑ روپے کی ایم ایس پی کی رقم براہ راست بینک کھاتوں میں منتقل کی جائے گی۔ خیال رہے کہ کسانوں نے زرعی قوانین واپسی کے بعد تحریک تو واپس لے لی ہے، لیکن وہ اب بھی ایم ایس پی قانون کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حکومت نے کسانوں کے اسی مطالبہ کے تحت انہیں خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔
اس کے علاوہ بجٹ کے دوران آنے والے دنوں میں کیمیکل سے پاک قدرتی کھیتی کو فروغ دینے کا اعلان کیا گیا۔ اس کے تحت دریائے گنگا کے ساحل پر 5 کلومیٹر کے گلیارے کو پہلے مرحلہ کے تحت منتخب کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ تلہن کے بیج کی درآمد کو کم کرنے کی سمت میں کام کرتے ہوئے گھریلو طور پر پیداوار کو بڑھایا جائے گا۔
وزیر خزانہ نے کسانوں تک تکنیک پہنچانے کی سمت میں بھی کام کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی ماڈل کے تحت اسکیم لائی جائے گی، جس سے کسانوں تک ڈیجیٹل اور ہائی ٹیک تکنیک پہنچائی جا سکے۔ یہاں تک کہ کسانوں کی کھیتی کا جائزہ لینے کے لئے ڈرون ٹیکنالوجی کی بھی مدد لی جائے گی۔ نیز ڈرون کے ذریعے کھاد اور جرثیم کش دواؤں کے چھکڑکاؤ کو بھی فروغ دیا جائے گا۔
نرملا سیتا رمن نے کہا کہ ریاستوں کو زرعی یونیورسٹی کو بحال کرنے کی جانب بھی راغب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نابارڈ کے ذریعے زراعت سے وابستہ اسٹارٹ اپ اور ان رورل اینٹر پرائیزز کو فنڈ مہیا کرایا جائے گا، جو کھیتی سے وابستہ ہیں۔ اس کے علاوہ کسانوں کو پھل اور سبزیوں کی صحیح قسم استعمال کرنے کے لئے حکومت جامع پیکیج فراہم کرے گی، جس میں ریاستوں کی بھی شراکت داری ہوگی۔
عام بجٹ سے عام آدمی کو مایوسی، انکم ٹیکس میں کوئی راحت نہیں
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے لگاتار چوتھی مرتبہ عام بجٹ پیش کیا، لیکن ان سفارشات میں باتیں بہت ہوئیں لیکن عام آدمی کو بظاہرکوئی راحت نہیں ملی۔ ان بجٹ سفارشات میں انکم ٹیکس کی حد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ نرملا سیتارمن کے بجٹ 2022-23 کا مرکز امرت مہتسو یعنی آزادی کے سو سال پورے ہونے پر رہا۔
وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ آر بی آئی جلد ڈجیٹل کرنسی جاری کرے گا، یعنی ملک میں ڈجیٹل کرنسی کے لئے راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اس سے ہونے والی آمدنی پر ٹیکس ضرور زیادہ ہے لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے جب حکومت نے ڈجیٹل کرنسی کے دروازہ کھولے ہیں۔ اس بجٹ میں امید کی جا رہی تھی کہ کسانوں کے لئے بڑے اعلانات کئے جا سکتے ہیں۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا، جو بھی اعلانات ہیں وہ کسانوں کے فوری فائدہ کے نظر نہیں آتے۔
واضح رہے نرملا سیتارمن نے ہیروں کے زیورات کی کسٹم ڈیوٹی کم کر دی ہے لیکن چھتریوں پر امپورٹ ڈیوٹی بڑھا دی ہے یعنی زیورات سستے ہوں گے اور چھتریاں مہنگی ہوں گی۔ ادھر حکومت نے ایک بڑا فیصلہ یہ لیا ہے کہ کارپوریٹ ٹیکس اور سر چارج میں کمی کر دی ہے یعنی کارپوریٹ گھرانوں کے لئے بڑی راحت اور حز ب اختلاف اس کو بڑا مدا بنائے گی۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت کو اس مرتبہ سب سے زیادہ جی ایس ٹی موصول ہوا ہے۔ انہوں نے کہا یہ اب تک کا سب سے زیادہ ہے۔ چھوٹے کاروبار کو راحت پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن روز گار فراہم کرنے کی جب بات کی گئی تو حکومت صرف ساٹھ لاکھ روزگار فراہم کرے گی یعنی حکمراں جماعت کا ہر سال دو کروڑ روزگار کا وعدہ بھی ایک طرح سے جملہ ہی ثابت ہو رہا ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ ایک ملک ایک رجسٹریشن کی پالیسی پر عمل کیا جائے گا۔ ریاستوں کو ایک لاکھ کروڑ روپے دیئے جائیں گے۔ خواتین کے لئے کئی اعلانات کئے گئے ہیں۔ طلباء کی تعلیم کے لئے بھی اعلان ہوئے ہیں اور ریلوے کے تعلق سے بھی تعمیراتی کاموں کا اعلان کیا گیا۔
وزیراعظم ای ودیا کے تحت چینلوں کی تعداد 12 سے بڑھا کر 200 کی گئی
وزیرخزانہ نرملا سیتارمن نے آج کہا کہ حکومت نے کورونا کی وبا کی وجہ سے آن لائ پڑھائی کےلئے وزیراعظم ای ودیا پروگرام کے تحت شروع کئے گئے ’ون کلاس ون ٹی وی چینل ‘ کی تعداد 12 سے بڑھاکر 200 ٹی وی چینل کردی ہے۔











