مظفر نگر :(ایجنسی)
جیسے جیسے اترپردیش میں انتخابات کی تاریخ قریب آرہی ہے سیاست تیز ہوتی جارہی ہے۔ مغربی یوپی کے تمام اضلاع میں پہلے مرحلے میں ہی انتخابات ہونے والے ہیں، ایسے میں سبھی پارٹیوں نے اپنی پوری طاقت یہاں جھونک دی ہے۔ گزشتہ دنوں گھر گھر مہم کے دوران بی جے پی لیڈر امت شاہ نے ایس پی اور راشٹریہ لوک دل کے اتحاد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جینت چودھری نے غلط گھر کا انتخاب کیا ہے۔ شاہ کے اس بیان پر راکیش ٹکیت سے سوال کیا گیا۔
اے بی پی نیوز کے ساتھ بات چیت کے دوران،ٹکیت سے پوچھا گیا کہ بی جے پی اور امت شاہ اب آر ایل ڈی-جینت چودھری کو کیوں یاد کر رہے ہیں؟ اینکر سمت اوستھی کے اس سوال کا جواب راکیش ٹکیت نے اپنے انداز میں دیا۔ ٹکیت نے کہا، ’ہمیں کیا معلوم ، بھائی؟ کون کہاں جا رہا ہے، کیا کر رہا ہے؟ ہم سے تو آپ کسانوں کے مسائل پر بات کریں۔ اس پر ہم بتا سکتے ہیں کہ کس کا گٹھ بندھن کس سے ہو سکتاہے۔ کون کہاں جا رہاہے؟ کون کیا بیان دے رہاہے۔
اس کے بعد سمت اوستھی نے راکیش ٹکیت سے پوچھا – کیا کسان چاہیں گےکہ بی جے پی اور راشٹریہ لوک دل کا اتحاد ہو؟ اس پر راکیش ٹکیت کہتے ہیں، ’’ہمیں نہیں معلوم کہ کس کے ساتھ اتحاد ہو رہا ہے۔ ہم صرف اپنی تحریک کے بارے میں جانتے ہیں۔ اور ہندوستان یا ریاست میں جس کی بھی حکومت آئے گی اور اگر وہ کسانوں کے خلاف کوئی بل یا قانون بنائے گی تو ہم اس کی مخالفت کریں گے۔ باقی حکومت کسی کی بھی آ جائے۔ کس کے ساتھ اتحاد ہو رہا ہے، کس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اینکر نے اگلا سوال کیا- امت شاہ کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کے بعد کسانوں کے ہر مطالبے مان لیں گے اس پر آپ کا کیا رد عمل ہے؟ راکیش ٹکیت نے اس سوال کا دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا، ’’آپ الیکشن سے پہلے کیوں نہیں مان رہےہیں؟ ہم نے انکے پچھلے 10 دنوں میں دو بار میسج کروا، وہ ہم سے میٹنگ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ دہلی میں ہوئے معاہدے کو نافذ نہیں کرنا چاہتے۔ ہم حکومت سے ملنا چاہتے ہیں، حکومت ہم سے نہیں مل رہی۔‘‘
بتادیں کہ اکھلیش یادو اور جینت چودھری کے اتحاد پر امت شاہ نے کہا تھا کہ دونوں صرف ووٹوں کی گنتی تک ساتھ ہیں۔ اگر حکومت بنتی ہے تو جینت بھائی نکل جائیں گے اور اعظم خاں بیٹھ جائیں گے۔ شاہ نے طنز کیا تھا کہ ٹکٹوں کی تقسیم سے ہی سمجھ آ گئی ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ امت شاہ کے اس بیان کے بعد جینت چودھری نے ٹویٹ کیا تھا اور کہا تھا، ’’ملک کے بڑے لیڈر میری اتنی فکر کر رہے ہیں۔ اچھا لگتا ہے۔ اس کا مطلب ہے، میں اچھا کر رہا ہوں!‘‘










