نئی دہلی: اقوام متحدہ (UN) کے تین خصوصی نمائندوں (Special Rapporteurs) نے بھارت کے الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) مہم پر سنگین خدشات ظاہر کیے ہیں۔ دی ہندو کی خصوصی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمل کے دوران بڑی تعداد میں مسلم اور دیگر اقلیتی برادریوں کے ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کیے جا رہے ہیں، جس سے شفاف اور غیر جانبدار انتخابی عمل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اہم خدشات کیا ہیں؟
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں نے الزام عائد کیا ہے کہ SIR مہم کے دوران لاکھوں ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کیے گئے ہیں اور اس کا سب سے زیادہ اثر اقلیتی برادریوں، خصوصاً مسلمانوں پر پڑ رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے خلاف ہو سکتا ہے۔
AI نظام اور شفافیت پر سوالات
رپورٹ میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ ووٹر لسٹ کی جانچ اور نظرثانی کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ایسے نظام استعمال کیے جا رہے ہیں جن کے طریقہ کار میں شفافیت کی کمی ہے۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق متاثرہ افراد کے لیے شکایت درج کرانے یا فیصلے کو چیلنج کرنے کا مؤثر طریقہ بھی واضح نہیں ہے۔ رپورٹ میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا کہ کہیں اس پورے عمل کے پیچھے اقلیتوں کو انتخابی عمل سے باہر رکھنے کا سیاسی مقصد تو نہیں۔
بھارت سے سات اہم سوالات
اقوام متحدہ کے نمائندوں نے بھارتی حکومت سے سات اہم نکات پر وضاحت طلب کی ہے۔ ان میں یہ بھی شامل ہے کہ SIR عمل کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار کے مطابق کیسے یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ماہرین نے ان افراد کے مذہب اور سماجی پس منظر سے متعلق الگ اعداد و شمار بھی طلب کیے ہیں جن کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کیے گئے یا جنہیں نااہل قرار دیا گیا۔ اگر ایسا ڈیٹا موجود نہیں تو اس کی وجہ بھی بتانے کو کہا گیا ہے۔
بین الاقوامی قوانین کا حوالہ
اقوام متحدہ کے نمائندوں نے بھارت کو یاد دلایا کہ وہ ICCPR اور 1992 کے اقوام متحدہ کے اقلیتوں سے متعلق اعلامیے کا پابند ہے۔ رپورٹ کے مطابق ICCPR کا آرٹیکل 25 ہر شہری کو بلاامتیاز ووٹ ڈالنے اور عوامی معاملات میں حصہ لینے کا حق دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 27 مذہبی، نسلی اور لسانی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔
مسلمانوں پر زیادہ اثر پڑنے کا خدشہ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مختصر مدت، AI نظام کے طریقہ کار میں مبینہ غیر شفافیت اور معاشی یا لسانی طور پر کمزور طبقات کو اپنے اخراج کے خلاف اپیل کرنے میں پیش آنے والی مشکلات خاص طور پر مسلم شہریوں کو زیادہ متاثر کر سکتی ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر ایسا ہوا تو یہ ووٹ کے حق پر غیر ضروری اور امتیازی پابندی تصور کی جا سکتی ہے۔
60 دن بعد رپورٹ ہوگی عوامی
اقوام متحدہ کی جانب سے جاری اطلاع میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت کے جواب سمیت اس پوری کارروائی کو 60 دن بعد عوامی کیا جائے گا اور اسے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی آئندہ رپورٹنگ میں بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین نے بھارتی حکومت سے اپیل کی ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو فوری طور پر ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے ممکنہ خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے، متاثرہ افراد کو انصاف ملے اور ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنایا جائے۔










