بنگلور:(ایجنسی)
ہریانہ کے گروگرام کے بعد اب کرناٹک کے بنگلور میں نماز کے خلاف احتجاج کا معاملہ سامنے آیا ہے۔کرناٹک کے بنگلور کے کرانتی ویر سنگولی رائنا (KSR) ریلوے اسٹیشن (بنگلورسینٹرل) پر ریلوے قلیوں کےلیے بنے ایک رسٹینگ روم کو ہندو جن جاگرتی سمیتی (HJS) کے زبردستی داخل ہونے کے ایک دن بعد دوبارہ پینٹ کر کے بند کر دیا گیا۔ ہندو جن جاگرتی سمیتی کے ارکان کمرے کے ایک حصے کا مسلم قلیوں کےذریعہ نماز ادا کرنے کےلئے استعمال کئے جانےکی مخالفت کررہے تھے۔
گوا واقع HJS، جس کا نام گوری لنکیش قتل کیس کے ملزم کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے، نے 31 جنوری کو بھارتیہ ریلوے کو خط لکھ کر ’عبادتگاہ‘ کو ’قومی سلامتی کے لیے خطرہ‘ بتایا۔
2 فروری کو، ساؤتھ ویسٹرن ریلوے (SWR) نے کمرے کی دیواروں کو پینٹ کیا اور اسے تالا لگا کر ریلوے پولیس فورس (RPF) کے اہلکاروں کو تعینات کردیا۔
غور طلب ہے کہ ریلوے اسٹیشن میں کم از کم دو مندر ہیں، ایک پلیٹ فارم نمبر7 پر اور دوسرا لوکوموٹیو شیڈ کے قریب، ساتھ ہی ایک چھوٹا سا کمرہ ہے جہاں عیسائی دعائیہ تقریب کرتے ہیں۔

دکن ہیرالڈ کے مطابق ریلوے کے ایک سینئر اہلکار نے کہاکہ وہاں کم از کم 30 سال سے نماز ادا کی جاتی رہی ہے۔ اسی طرح مندروں میں کئی دہائیوں سے پوجا کی جاتی رہی ہے۔ مفاد پرست لوگ تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ہندو گروپ کے کرناٹک کے ترجمان موہن گوڑا نے کہا کہ وہ ریلوے کے احاطے میں واقع مندروں کے بارے میں نہیں جانتے ہیں۔
اسٹیشن منیجر کو لکھے اپنے خط میں گوڑا نے کہا کہ2019 میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) نے ایک دہشت گرد محمد اکرم کو بنگلور کے میجسٹک ایریا (جہاں ریلوے اسٹیشن واقع ہے) سے گرفتار کیاتھا۔ پولیس نے ایک بنگلہ دیشی دہشت گرد کو گرفتار کیا تھا، جو جماعت المجاہدین کا رکن تھا، جو بنگلور کی کاٹن پیٹ مسجد میں چھپا ہوا تھا۔
کسی نہ کسی طرح گرفتاری کو نماز سے جوڑتے ہوئے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے پلیٹ فارم پر نماز کی اجازت دینا کتنا مناسب ہے؟ ان لوگوںکے خلاف فوراً کارروائی کرنےکی اپیل کی جاتی ہے ،جنہوںنے غیرمجاز جگہ کی اجازت دی ہے ۔










