نئی دہلی :(ایجنسی)
لوک سبھا میں صدر جمہوریہ کی تقریر پر شکریہ کی تجویز پر بحث کی شروعات کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے کی۔ اس دوران انھوں نے کہا کہ صدر جمہوریہ کی تقریر سچائی سے بے حد دور تھی۔ اس تقریر میں بے روزگاری کو لے کر کوئی تذکرہ نہیں تھا۔ جب کہ گزشتہ سال تین کروڑ نوجوانوں نے اپنا روزگار گنوا دیا۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کہا کہ 50 سال میں سب سے زیادہ بے روزگاری اس وقت ہندوستان میں ہے۔مرکز پر نشانہ سادھتے ہوئے کانگریس کےسابق صدر نے کہاکہ ملک کا نوجوان روز مانگ رہا ہے ۔ آپ کی سرکار روزگار دینے میں ناکام ہے۔ گزشتہ سال 3 کروڑ نوجوانوںنے روز کھو دیا۔ 50 سال میں سب سے زیادہ بے روزگاری آج ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہم کمزور ہوئے ہیں۔ چین اور پاکستان ہمیں گھیرے ہوئے ہیں۔ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے دونوں ملک اکٹھے ہوئے ہیں۔ ہمیں ان سے لڑنے کے لیے پالیسی بنانی ہوگی۔ آج ہمارا ملک خطرے میں ہے، ہم چاروں طرف سے گھرے ہوئے ہیں۔ اپنے آپ سے پوچھیں کہ آپ کو یوم جمہوریہ پر مہمان کیوں نہیں مل پا رہے ہیں، آج ہندوستان مکمل طور پر الگ تھلگ اور گھرا ہوا ہے۔ ہم سری لنکا، نیپال، برما، پاکستان، افغانستان اور چین سے گھرے ہوئے ہیں۔
کانگریس لیڈر راہل گاندھی نےلوک سبھا میں صدر جمہوریہ کی تقریر پر شکریہ کی تجویز پر بحث کے دوران اب دو الگ الگ بھارت ہیں۔ ایک امیروں کے لیے اور ایک دوسرا غریبوں کےلیے۔ انہوں نے کہاکہ دونوں کے درمیان خلیج چوڑی ہورہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ صدرجمہوریہ کی تقریر میں کس بارے میں نہیں بتایا گیا؟ مجھے لگتا ہے کہ تین بنیادی چیزیں ہیں: پہلا یہ نظریہ ہے کہ دو بھارت ہے، ایک بھارت نہیں۔ ایک بہت دولت مند لوگوں کے لیے ہے، جن کے پاس بے شمار دولت ہے اور جنہیںنوکری کی ضرورت نہیں ہے ۔ دوسرا ہے غریبوں کے لیے۔
راہل گاندھی نے لوک سبھا میں کہاکہ آپ’ میڈ ان انڈیا‘کےبارے میں بات کرتے ہیں ۔ میڈ ان انڈیا اب ممکن نہیں ہے۔ آپ نے ’میڈ ا ن انڈیا کو برباد کردیا ہے۔ آپ کو چھوٹے اور درمیانے صنعتوں کی حمایت کرنےکی ضرورت ہے،ورنہ ’میڈان انڈیا‘ ممکن نہیں ہے۔ چھوٹے اوردرمیانے صنعت ہی روزگار پیدا کرسکتےہیں۔ انہوں نے کہاکہ آپ میڈان انڈیا اسٹار اپ انڈیا وغیرہ کےبارے میں بات کررہے ہیں اور صرف بےروزگاری بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ آپ یہ مت سوچے کہ جس غریب ہندوستان کو آپ بنا رہے ہو یہ خاموش بیٹھا رہےگا۔ یہ خاموش نہیں بیٹھا رہےگا۔ اس ہندوستان کو دیکھ رہاہے کہ آج ہندوستان کے 100 سب سے امیر لوگوںکے پاس ہندوستان کے 55 کروڑ لوگوں سےزیادہ جائیداد ہے ،یہ نریندرمودی جی نے کیاہے۔
لوک سبھا میں کانگریس لیڈر نے کہاکہ ہندوستان کے 84 فیصد لوگوں کی آمدنی گھٹی ہے اوروہ تیزی سے غریبی کی جانب بڑھ رہےہیں۔ 27 کروڑ لوگوں کو ہم نے غریبی سے نکالا تھا اور 23 کروڑ لوگوں کو آپ نے غریبی میں واپس ڈھکیل دیا۔
راہل گاندھی نے کہاکہ ’عدلیہ،الیکشن کمیشن اورپیگاسس لوگوں کی آواز کو دبانے کےلیے استعمال کئے جانے والے آلات ہیں۔
گاندھی نے کہاکہ میں ایمرجنسی پر بھی بولوںگا ،میں اس کے بارے میں بات کرنے سے نہیںڈرتا، راجا (کنگ) کے خیالات واپس آگیا ہے۔ جسے کانگریس نے 1947 میں ختم کردیا تھا۔ اب ایک شہنشاہ ہے۔ اب ہمارے ریاست اور لوگوںکےدرمیان کے درمیان بات چیت کی سہولیات پر ایک نظریہ سےحملہ کیا جا رہاہے ، اس لئے مثال کے لیے آج تمل ناڈو کے نظریہ کو بھارتیہ ادارے سے باہر رکھا گیاہے۔ آپ کہہ رہےہیں کہ باہر نکلو یہاں سے ، ان کے پاس آواز نہیں ہے۔ پنجاب کے کسان کھڑےہو سکتے ہیں ، لیکن ان کے پاس آواز نہیںہے، احتجاجی مظاہرے کے دوران کورونا وائرس مہاماری کے سبب لوگوںکی جانیں چلی گئیں ، لیکن راجا نے نہیں سنا۔










