نئی دہلی :(ایجنسی)
اترپردیش اسمبلی انتخابات کے لیے پہلے مرحلے کی ووٹنگ 10 فروری کو ہوگی۔ انتخابات کے پہلے مرحلے سے قبل تمام پارٹیاں بھرپور مہم چلا رہی ہیں۔ ہفتہ کو فتح پور سیکری میں اپنے آر ایل ڈی امیدوار کی تشہیر کرنے پہنچے جینت چودھری نے یوگی آدتیہ ناتھ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بابا کی نظر میں میں بھی غنڈہ ہو گیا ۔ انہوں نے مجھ پر لاٹھیاں کیوں چلائی ، آخر میں نے کیا جرم کیا ؟
آر ایل ڈی کے سربراہ جینت چودھری نے کہا کہ بابا کا دعویٰ ہے کہ ہم نے لاء اینڈ آرڈر کو بہتر کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں ہم نے غنڈوں کو بھگادیا۔بابا کی نظر میں میں بھی غنڈہ تھا کیا،جب میں ہاتھرس گیا تھا ،بی جے پی مجھ پر لاٹھی کیوں چلوائی ، میں نے کوئی جرم کیا ہے کیا؟ ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ یوگی بابا کو کیا معلوم کہ باباکسے کہتے ہیں۔ ان کا سخت مزاج ہے توبائیے وہ باباکیسے ہوئے۔ وہ کہتے ہیں 10 فروری کے بعد گرمی شانت ہو جائے گی۔ اب انہیں کون سمجھائے کہ ہمارے تو خون میں گرمی ہے۔
واضح رہے کہ اکتوبر 2020 کے مہینے میں جینت چودھری ہاتھرس کی گینگ ریپ متاثرہ کے خاندان سے ملنے جا رہے تھے۔ تبھی بیچ راستے میں پولیس نے آر ایل ڈی لیڈروں اور کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا۔ اس دوران پولیس نے جینت چودھری پر بھی لاٹھی چارج کیا لیکن آر ایل ڈی کارکنوں نے کسی طرح گھیرا بندی کرکے انہیں بچا لیا۔ اس واقعہ کے بعد یوگی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے جینت چودھری نے کہا کہ اگر آپ کو لاٹھی استعمال کرنے کا حق ہے تو مجھے اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونے کا حق ہے! خوب لاٹھیوں کا استعمال کریں، ہمارا عزم اتنا ہی مضبوط ہوگا!
دوسری طرف ہفتہ کو مظفر نگر میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے یوگی آدتیہ ناتھ نے اکھلیش یادو اور جینت چودھری کی جوڑی پر طنز کیا۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ان دونوں لڑکوں کی جوڑی ڈارک زون کی جوڑی ہے۔ ان کے دور میں ہینڈ پمپوں نے بھی پانی دینا بند کر دیا تھا۔ اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 100 فیصد لوگوں نے پہلی خوراک لی ہے اور 72 فیصد لوگوں نے دونوں خوراکیں لی ہیں۔ تو اب یہ الیکشن 90-10 کی طرف جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ یوگی آدتیہ ناتھ نے یہ بھی کہا کہ اقتدار میں آنے کے بعد ہم نے بیٹیوں کی حفاظت کو اہمیت دی۔ سہارنپور میں یونیورسٹی بن رہی ہے، جب کہ پہلے کرفیو لگتا تھا۔ ایس پی کے دور حکومت میں غریبوں، بیواؤں اور معذوروں کی پنشن ہڑپ لی جاتی تھی۔ ہڑپ کر عطر والے دوست کے یہاں رکھتے تھے ۔










