رام پور (آر کے بیورو)
رکن پارلیمنٹ محمد اعظم خاں کے بیٹے اور سوار ٹانڈہ سے ایس پی امیدوار عبد اللہ اعظم نے الیکشن میں اپنے والد کے سیاسی انداز کی نقل کی ہے۔ ایک طرف وہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے رام پور کے نواب خاندان کو چیلنج کر رہے ہیں تو دوسری طرف ضلع انتظامیہ کے افسران پر بھی نشانہ سادھ رہے ہیں۔ تازہ بیان میں انھوں نے ان کے والد اعظم خاں کو جیل بھیجنے والے سابق ڈی ایم رام پور اور موجودہ ڈویژن کمشنر آنجنے کمار سنگھ کو سیدھا چیلنج دیا ہے کہ اگر انہیں سیاست کا اتنا ہی شوق ہے تو الیکشن لڑ لیں۔
یاد رہے ڈویژنل کمشنر نے اعظم خاں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی تھی۔ اس وقت وہ رام پور میں ضلع مجسٹریٹ تھے۔ ان کی وجہ سے اعظم خاں، ان کی بیوی اور بیٹے کو جیل جانا پڑا۔ یاد رہے رام پور میں پہلی بار سماج وادی پارٹی اعظم خاں کے بغیر اسمبلی الیکشن لڑ رہی ہے۔ خود اعظم خاں 10ویں بار ایم ایل اے بننے کے لیے سیتا پور جیل سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ان کے بیٹے عبد اللہ اعظم 23 ماہ بعد جیل سے باہر آئے ہیں اور وہ سوار سیٹ سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ عبد اللہ کے کندھوں پر اپنے انتخاب کے ساتھ ساتھ اعظم خاں کے الیکشن کی باگ ڈور سنبھالنے کی ذمہ داری بھی ہے۔
اعظم خاں اپنی تقریروں میں نواب خاندان کو خوب نشانہ بناتے تھے۔ اب اسی انداز میں عبد اللہ تیر چلاتے ہیں اور اپنے والد کی طرح ہاتھ اٹھا کر افسروں کو نشانہ بناتے ہیں۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے دوران قابل اعتراض تقریر کرنے پر اعظم خاں کئی مقدمات میں ماخوذ ہو گئے تھے۔ اب وہ کمشنر بن چکے ہیں اور عبد اللہ انہیں نشانہ بنانے سے نہیں چوک رہے ہیں۔ چاہ خزان خاں میں منعقد جلسۂ عام میں انہوں نے کہا کہ کمشنر نے رام پور الیکشن کو اپنی ناک کا سوال بنا لیا ہے۔ پولیس کی جانب سے عوام کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا اگر انھیں سیاست کا اتنا ہی شوق ہے تو نوکری چھوڑ کر الیکشن لڑیں۔ عبد اللہ نے اس سے پہلے کمشنر پر بی جے پی لیڈروں کے ساتھ ملی بھگت کا الزام لگاتے ہوئے اپنی جان کو بھی خطرے کا اندیشہ ظاہر کیا تھا۔ منڈل کمشنر عبد اللہ کے الزامات اور بیانات پر کچھ نہیں کہتے۔ عبد اللہ کی تقاریر سیاسی ہیں جب کہ ڈویژنل کمشنر آنجنے کمار سنگھ ایک سرکاری اہل کار ہیں۔ عہدےکی مجبوری کے باعث وہ عبد اللہ اعظم کے بیانات پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔










