بنگلور:(ایجنسی)
کرناٹک کے کالجوں میں حجاب کے معاملے میں اس وقت نیا موڑ لے لیا جب دلت طلبا مسلم طالبات کی حمایت میں آگے گئے ،ان طلبا کا اے بی وی پی کے غنڈوں سے ٹکرائو بھی ہوگیا، دلت طلبا بھگوا کے جواب میں نیلا گمچھا پہن کر جے بھیم کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ تنازع جزوی طور پر حل کردینے کا تاثر دیاجارہا ہے۔ ٹکرائو کی وجہ سے دو کالجوں شانیوشری پی یو اور جی آر بی میں دو دن کی چھٹی کا اعلان کردیاگیا ہے ۔جبکہ اڈپی کے کالج میں طالبات کو داخلہ دے دیاگیا ہے۔
ادھر دوسری طرف کنڈا پور کے سرکاری پی یو کالج نے کیمپس میں پیر کو مسلم طالبات کو حجاب پہن کر آنے کی اجازت دی ہے، ساتھ ہی یہ شرط بھی عائد کی ہے کہ وہ الگ کلاسوں میں بیٹھیں گی۔ یہ طالبات ہر دن گیٹ کے باہر کالج شروع ہونے سے لے کر اختتام تک احتجاج کررہی تھیں۔ ان طالبات کی حمایت میں کرناٹک کے دیگر شہروں میں زبردست احتجاج کیاجارہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق بیلگام شہر میں آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کی جانب سے زبردست احتجاج کیاگیا اور آر ایس ایس مردہ باد کے نعرے لگائے گئے۔ شاہ پور کی مسلم خواتین نے بھی ہزاروں کی تعداد میں نکل کر احتجاج کیا اور کہاکہ حجاب پہننا ہمارا حق ہے ہم اس سے دستبردار نہیں ہوسکتے۔ حجاب ہمارا فخر ہے، حجاب ہماری حفاظت ہے۔ کنڈا پور میں سرکاری جونیئر پی یو کالج کی پرنسپل رام کرشنا جی جے نےزور دے کر کہاکہ طالبات حجاب ہٹانے کے بعدہی کلاسز حصہ لے سکتی ہیں ، لیکن لڑکیاں اس بات پر بضد رہیں کہ وہ کلاس میں اپنا حجاب نہیں اتاریں گی۔
وہیں کلاواردراج ایم شیٹی گورنمنٹ فرسٹ گریڈ کالج کنڈا پور میں حجاب میں ملبوس لڑکیوں کو گھر بھیج دیا گیا۔وائس پرنسپل اوشا دیوی نے کہا کہ ہم نے طالبات کو گھر واپس بھیج دیا۔ ہم نے انہیں بغیر حجاب کے کلاسوں میں داخل ہونے کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے انکار کر دیا تو اسے جانے کو کہا۔ ہم نے ان سے ہائی کورٹ کے حکم کاانتظار کرنے کی درخواست کی ہے ۔
بتادیں کہ کرناٹک کے وجے پورہ ضلع کے دو دیگر کالجوں شانتیشور پی یو اور جی آر بی کالج میں کئی طالبات نے اپنے ہم جماعت حجاب پہننے والی طالبات کی مخالف میں بھگوا اسکارف پہن کر داخل ہوئیں ۔ پرنسپل نے طالبات سے کہاکہ کرناٹک ہائی کورٹ منگل(۸؍فروری) کو اس معاملے سماعت کرے گا ، ہائی کورٹ اڈوپی کے ایک سرکاری پری یونیورسٹی کالج کی پانچ طالبات کےذریعہ حجاب پر پابندی پر سوال اٹھانے والی درخواستوں کی سماعت کرے گی۔اس معاملے کی لوک سبھا میں بھی آج گونج سنائی دی۔ اطلاعات کے مطابق کیرل سے کانگریس ممبر پارلیمنٹ ٹی این پرتاپن نے کرناٹک میں چل رہے حجاب تنازعہ کو لے کر ایوان میں کہا کہ ہم اپنے ملک کو کہاں لے جارہے ہیں، ہم اپنی ثقافتی تنوع کو نہیں چھوڑ سکتے، میں وزیر تعلیم سے طلبہ کے آئینی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کےلیے مداخلت کی درخواست کرتا ہوں۔
ادھر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کرناٹک میں مسلم طالبات کو حجاب سے روکنے کے پس منظر میں کہا ہے کہ کرناٹک جنوب کی ایک اہم ریاست ہے، اور مذہبی ہم آہنگی اس کی پہچان رہی ہے؛ لیکن افسوس کہ یہاں بھی قومی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اڈپی اور کرناٹک کے کچھ دوسرے علاقوں کے بعض اسکولوں میں مسلم طالبات کو حجاب سے روکنا ایسی ہی سازشوں کا حصہ ہے، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اس کی سخت مذمت کرتا ہے، لباس کا تعلق ذاتی پسند سے ہے اور یہ مسئلہ شخصی آزادی کے دائرہ میں آتا ہے؛ اس لئے اس کو موضوع بنا کر سماج میں اختلاف پیدا کرنا مناسب نہیں ہے، ہر طبقہ کو اس کی آزادی ہونی چاہئے کہ وہ اپنی پسند کا لباس اختیار کرے، ہندوستان میں سیکولرزم کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی فرد یا گروہ اپنی مذہبی پہچان کو ظاہر نہیں کرے، ہاں یہ بات ضرور سیکولرزم میں داخل ہے کہ حکومت کسی خاص مذہب کی پہچان کو تمام شہریوں پر اس کی مرضی کے بغیر مسلط نہیں کرے؛ اس لئے حکومت کرناٹک کو چاہئے کہ وہ سرکاری اسکولوں میں نہ کسی خاص لباس کے پہننے کا حکم دے اور نہ کسی گروہ کو اس کی پسند کا لباس پہننے سے منع کرے۔
آج باحجاب طالبات کی حمایت میں شام ساڑھے پانچ بجے ٹوئٹر پر مرکز تحفظ اسلام ہند کی جانب سے #HijabisFundamentalRight چلایاگیا جس میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا عمرین محفوظ رحمانی سمیت میں ملک کی مقتدار اور اہم شخصیات نے حصہ لے کر طالبات کے حقوق پر آواز اُٹھائی اور حجاب کو اسلامی شعائر کے ساتھ ساتھ بنیادی حق قرار دیا۔
ادھر تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے کو لے کرپیداشدہ تنازعہ میں کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی کا بیان بالآخر منظر عام پر آ گیا ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ہائی کورٹ میں معاملہ کی سماعت سے قبل امن برقرار رکھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالت کے حکم کے بعد حکومت مزید اقدامات کرے گی، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ جب تک اس معاملہ میں عدالت کا حکم نہیں آجاتا، تمام تعلیمی اداروں کو حکومت کی جانب سے یونیفارم کے حوالے سے جاری کردہ قوانین پر عمل کرنا ہوگا۔بنگلور میں میڈیا اہلکار سے بات کرتے ہوئے بومئی نے کہاکہ معاملہ اب ہائی کورٹ میں ہے اور وہاں اس کا فیصلہ ہو گا، تب تک تمام لوگوں کو پرسکون رہنا چاہیے اور کسی بھی طرح کے نقضِ امن پیدا کرنے کی کوشش نہ کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کا حکم کل تک آجائے گا۔ اس کے بعد ہم مزید اقدامات کریں گے، تب تک طلبہ کو یونیفارم کے حوالے سے ریاستی حکم کی تعمیل کرنی ہوگی۔
بومئی نے واضح کیا کہ تعلیمی اداروں میں پہننے والے یونیفارم کے بارے میں آئین میں کچھ باتیں کہی گئی ہیں۔ ان قوانین کا ذکر ریاست کے تعلیمی قانون میں بھی ہے۔بومئی حکومت نے ہفتہ کو ایک سرکلر جاری کیا جس میں اس قسم کے لباس پر پابندی عائد کی گئی ہے جس سے ریاست کے تعلیمی اداروں میں امن، ہم آہنگی اور امن و امان میں خلل پڑتا ہے۔
کرناٹک ہائی کورٹ منگل کو اڈپی کے گورنمنٹ پری یونیورسٹی کالج میں زیر تعلیم پانچ مسلم لڑکیوں کی درخواست پر سماعت کرے گی، جن کے ساتھ کالج میں حجاب پہننے پر پابندی کا سامنا ہے ۔اس سے قبل کرناٹک کے وزیر تعلیم بی سی ناگیش نے کہا تھا کہ جو لڑکیاں یونیفارم کوڈ کی پیروی نہیں کرتی ہیں وہ دوسرے آپشنز تلاش کرنے میں آزادہیں۔ ناگیش نے میسور میں نامہ نگاروں سے کہاکہ جس طرح فوج میں قوانین کی پیروی کی جاتی ہے، اسی طرح یہاں (تعلیمی اداروں میں) کی جاتی ہے، جو لوگ اس پر عمل نہیں کرنا چاہتے ان کے لیے دروازے کھلے ہیں۔ وزیر نے طلباء سے اپیل کی کہ وہ سیاسی جماعتوں کے مہرے نہ بنی بنیں۔ وہیں کالج میں داخلہ کی پابندی کا سامنا کررہی طالبات کا کہنا ہے کہ حجاب ہمارا آئینی حق ہے ،ہم اس سے دستبردار نہیں ہوسکتے ۔










