نئی دہلی :(ایجنسی)
وزارت تعلیم نے دہلی کے جواہرلال نہرو یونیورسٹی میں پروفیسر شانتی سری دھولیپوڑی کو نیا وائس چانسلر مقرر کیا ہے۔ وہ اس ادارہ کی سربراہی کرنے والی پہلی خاتون ہوں گی۔ بتادیں کہ ان کی تقرری کے اعلان کے فوراً بعد ہی سوشل میڈیا پر ان کے نام کےایک ٹوئٹر ہینڈل (@SantishreeD)سے کئے گئے پرانے متنازع ٹویٹس کو اب ہنگامہ مچا ہوا ہے ۔
دراصل ان ٹویٹس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ اور سینٹ اسٹیفن کالج کو ’’کمیونل کیمپس‘‘ کہا گیا تھا۔ اس ہینڈل کے ذریعے بھارتیہ عیسائیوں کے لیے اشتعال انگیز زبان استعمال کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ شہری حقوق کے کارکنوں کو ’ذہنی طور پر بیمار جہادی‘ بھی قرار دیاتھا۔ تاہم جب اس پر ہنگامہ ہوا تو اسے ڈیلیٹ کر دیا گیا۔
شانتی سری دھولیپوڑی پنڈت ایم جگدیش کمار کی جگہ لیں گی۔ جو حال ہی میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے چیئرمین بنے ہیں۔ ان کی تقرری کا حکم 4 فروری کو جاری کیا گیا تھا اور یہ پانچ سال کی مدت کے لیے موزوں ہے۔ پیر کو ایک بیان میں، پنڈت نے کہاتھا کہ ان کی توجہ ’تعلیمی فضلیت کے لئے شفاف انتظامیہ، طلباء کے لیے دوستانہ ماحول ‘ فراہم کرنے پر مرکوز رہے گی ۔
ساتھ ہی ان کی تقرری پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ معلومات کے مطابق ان کی تنخواہ میں مبینہ طور پر دو مرتبہ اضافہ روک لیا گیا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ اس انکشاف کے بعد بھی ان کی تقرری کی گئی۔ وہیں ایم او یو کی رپورٹ کے مطابق ساوتری بائی پھولے پونے یونیورسٹی نے بتایا کہ حکام نے یکم جولائی 2011 سے پنڈت کے پانچ انکریمنٹ اور یکم جولائی 2017 سے دیگر دو انکریمنٹس کو مستقل طور پر روکنے کا جرمانہ عائد کیا تھا ۔
ٹوئٹر پر، سی پی آئی (ایم ایل) کی رہنما کویتا کرشنن نے لکھا کہ مودی حکومت میں جے این یو کی نئے وی سی نے ہندوستان کے کسانوں کے خلاف اور ہندو اکثریتی خیالات سے بھرے کئی ٹویٹس کئے ہیں۔ انہوںنے لکھا کہ پنڈت سرگرمی سے جے این یو سے نفرت کرتی ہیں ۔
کرشنن کے ٹویٹ کے مطابق متنازع ٹویٹس میں کہا گیاتھا کہ جے این یو سے ہارنے والوں نے اپنا کنٹرول کھو دیا ہے۔ ان انتہا پسند نکسل گروپوں کو جے این یو کیمپس میں پابندی لگائی جائے۔ جامعہ اور سینٹ اسٹیفن جیسے کمیونل کمپلیکس کی فنڈنگ بند کی جائے۔
پروفیسر شانتی شری دھولیپوڑی پنڈت کی پیدائش 1962 میں روس میں مصنف – صحافی سے سرکاری ملازم بنے ڈاکٹر دھولیپوڑی انجانیولو اور جو لینن گراڈ اورینٹل فیکلٹی ڈپارٹمنٹ میں تامل اور تیلگو کے پروفیسرملامودی آدلکشمی کےگھر ہوئی تھی۔ انہوںنے پریزیڈنسی کالج، مدراس سے گریجویشن کیا اور گولڈ میڈلسٹ بھی تھیں، جس کے بعد انہوں نے جے این یو سے international relations میں ایم فل کیا۔
پنڈت نے کئی کتابچے اور تین کتابیں بھی شائع کی ہیں۔ انہوں نے ترمیم شدہ کتابوں میں تقریباً 100 ابواب کا حصہ ڈالا ہے اور سیاسیات اور خارجہ پالیسی پر معروف جرائد میں 180 سے زیادہ تحقیقی مقالے اور اشاعتیں شائع کی ہیں۔










