نئی دہلی:(ایجنسی)
اطلاعات و نشریات کی وزارت (آئی بی) کی طرف سے جماعت اسلامی کے ایک سرکردہ رکن کے ملیالم چینل ’میڈیا ون‘ کا نشریاتی لائسنس منسوخ کرنے کے ایک دن بعد کیرالہ سے لوک سبھا کے 10 اراکین پارلیمنٹ، آئی بی کے وزیر انوراگ ٹھاکرسے ملاقات کی تھی۔
ٹھاکر نے ممبران پارلیمنٹ کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملنے کا مشورہ دیا کیونکہ وزارت داخلہ نے چینل کو سیکورٹی کلیئرنس دینے سے انکار کر دیا تھا۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ان ممبران پارلیمنٹ میں کانگریس کے کوڈیکنل سریش اور کے سدھاکرن اور ریولیویشنری سوشلسٹ پارٹی سے این کے پریم چندرن شامل تھے ۔
پارٹی لائن کو الگ رکھتے ہوئے این سی پی کی سپریا سولے، ترنمول کانگریس کی مہوا موئترا، آئی یو ایم ایل کے ای ٹی محمد بشیر اور کانگریس کے دگ وجے سنگھ نے بھی ’میڈیا ون‘ کی حمایت کا اظہار کیا۔
بی ایس پی ایم پی کنور دانش علی نے ٹویٹ کیا کہ حکومت کو میڈیا کی آزادی پر نئے نئے طریقوں سے حملہ ایمرجنسی دور کو واپس نہیں لانا چاہئے۔
گزشتہ اتوار کو ڈی ایم کے کی کنی موزی نے ٹویٹ کیا تھا، ’جمہوریت میں لوگوں، میڈیا اور سول سوسائٹی کی آواز سنی جانی چاہیے۔ اختلاف رائے، بحث اور مکالمے پر پابندی جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے۔‘
ٹھاکر نے ان تنقیدوں پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ کیرالہ کے 10 ممبران پارلیمنٹ نے اس سلسلے میں ٹھاکر اور وزیر داخلہ امت شاہ کے دفتر کو ایک میمورینڈم پیش کیا ہے اور اسے انتہائی افسوسناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ان وجوہات اور خدشات کی وضاحت نہیں کر رہی ہے جن کی وجہ سے سیکورٹی کلیئرنس دینے سے انکار کیا گیا تھا۔










