باغپ:(ایجنسی)
اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے ووٹنگ جاری ہے۔ صبح 11 بجے تک کل 20 فیصد لوگ اپنا ووٹ ڈال چکے تھے۔ اوسطاً شاملی میں سب سے زیادہ 22.83 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی، جب کہ علی گڑھ میں سب سے کم 17.91 فیصد پولنگ ہوئی۔ باغپت سے ایک فرضی ووٹر پکڑا گیا ہے۔ زی نیوز کے مطابق مقامی لوگوں کی مدد سے اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف بلند شہر کے انوپ شہر کے بوتھ نمبر 421 پر ای وی ایم خراب ہو گئی ، جس کی وجہ سے وہاں ووٹنگ روک دی گئی ۔ اسی طرح علی گڑھ کے کھیر اسمبلی کے گاؤں دھومرہ میں بھی ای وی ایم کی خرابی کی وجہ سے ووٹنگ کافی دیر سے رکی ہوئی ہے۔ دریں اثنا، سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے الیکشن کمیشن سے اپیل کی ہے کہ جہاں کہیں ای وی ایم میں خرابی ہے یا جان بوجھ کر پولنگ کو سست کرنے کے الزامات ہیں، وہاں فوری کارروائی کرے۔
ووٹنگ شروع ہونے کے بعد سماج وادی پارٹی نے ٹویٹ کر کے کئی مراکز میں بے ضابطگیوں، ووٹرز کو ڈرانے، ای وی ایم کی خرابی اور ووٹر لسٹ میں نام نہ ہونے کی وجہ سے ووٹ ڈالنے سے روکنے کی شکایت کی ہے۔ پارٹی کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ بلند شہر ضلع کے اسمبلی حلقہ سکندرآباد 64،بوتھ نمبر 227 ایم ایس انٹر کالج میں پولنگ روم میں اندھیرا ہے۔ ووٹروںکو ووٹنگ میں پریشانی ہو رہی ہے ۔ اسی طرح شاملی ضلع کے کیرانہ-8 اسمبلی کے گاؤں ڈندوکھیڑا کے بوتھ نمبر 347,348,349,350 پر غریب طبقے کے ووٹروں کو ڈرانے اور لائن سے واپس بھیجنے کا الزام ہے۔
انتخابات کے پہلے مرحلے میں کل 623 امیدوار میدان میں ہیں۔ ان میں بی جے پی کے 58، بی ایس پی کے 58، کانگریس کے 58، عام آدمی پارٹی کے 54، راشٹریہ لوک دل کے 29، سماج وادی پارٹی کے 28، اے آئی ایم آئی ایم کے 16، آزاد 172 اور دیگر 150 امیدوار شامل ہیں۔
سماج وادی پارٹی کے ٹویٹر ہینڈل پر بتایا گیا ہے کہ میرٹھ ضلع کے اسمبلی حلقہ 48، بوتھ نمبر 26 پر چوٹھی پرچی ہونے کی وجہ سے ووٹر2 گھنٹے سے لائن میں کھیڑےہیں۔ ووٹ نہیں ڈالنے دیا جا رہاہے ۔ پارٹی نے الیکشن کمیشن سے اس کو نوٹس میںلے کر منصفانہ پولنگ کو یقینی بنائے۔
علی گڑھ کے کھیر اسمبلی حلقہ کے دھومرا گاؤں میں ای وی ایم میں خرابی کی وجہ سے پولنگ کافی دیر سے رکی ہوئی ہے۔ آج صبح پولنگ شروع ہونے کے کچھ دیر بعد ہی کئی اضلاع سے ای وی ایم میں خرابی کی شکایتیں آنا شروع ہوگئیں۔ اس کی شکایتیں میرٹھ، مظفر نگر، علی گڑھ، باغپت وغیرہ اضلاع میں زیادہ تھیں۔










