بھوپال ؍ پڈوچیری:(ایجنسی)
کرناٹک میں جاری حجاب تنازع کی گرمی بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں پڈوچیری اور مدھیہ پردیش تک پہنچ گئی ہے۔ مدھیہ پردیش حکومت کے وزیر تعلیم نے یونیفارم ڈریس کوڈ کی حمایت کی ہے، جبکہ پڈوچیری کے ایک سرکاری اسکول میں ایک مسلم طالبہ کو کلاس روم کے اندر حجاب پہن کر آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس کے خلاف اسٹوڈنٹ فیڈریشن آف انڈیا سمیت کچھ دیگر تنظیموں نے مظاہرہ کیا ہے۔
مدھیہ پردیش کے وزیر تعلیم اندر سنگھ پرمار نے کہا ہے کہ حجاب اسکول یونیفارم کا حصہ نہیں ہے، اس لیے اسکولوں میں اس پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ روایات کی پابندی اسکولوں میں نہیں گھروں میں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت اسکولوں میں ڈریس کوڈ پر سختی سے عمل پیرا ہے۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا مدھیہ پردیش کے اسکولوں میں بھی حجاب پر پابندی ہوگی، وزیر نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو تحقیقات کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔ لیکن بدھ کو انہوں نے اپنے بیان سے یو ٹرن لے لیا۔
اس کا جواب دیتے ہوئے مدھیہ پردیش کانگریس کے ترجمان عباس حافظ نے کہا کہ حکومت کو بتانا چاہئے کہ اس کی ترجیح تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا ہے یا فرقہ وارانہ تقسیم کے ایجنڈے کو جاری رکھنا ہے۔ مدھیہ پردیش کے تقریباً 1.25 لاکھ سرکاری اسکولوں میں اسکول یونیفارم پہنا جاتا ہے۔
جبکہ پڈوچیری کے آریان کپم واقع ایک اسکول میں ایک مسلم طالبہ کا کہنا ہے کہ اسے حجاب پہن کر کلاس روم میں داخل ہونے کی اجازت نہیں گئی۔ اسٹوڈنٹ فیڈریشن آف انڈیا نے کہا ہے کہ طالبہ گزشتہ 3 سال سے حجاب پہن کر کلاس میں آ رہی تھی، لیکن اب اس پر اعتراضات کیے جا رہے ہیں۔
طلبہ تنظیم نے سوال اٹھایا ہے کہ اتنے سالوں بعد یہ اعتراض کیوں اٹھایا گیا؟ پڈوچیری کے محکمہ تعلیم نے اس بارے میں پوچھ گچھ کرکے جواب دینے کو کہا ہے۔
واضح رہے کہ کرناٹک کے ایک اسکول سے حجاب کو لے کر شروع ہونے والا تنازعہ آگے بڑھ گیا ہے اور ریاستی حکومت نے 3 دن کے لیے اسکول اور کالج بند کر دیے ہیں۔ معاملہ ہائی کورٹ تک بھی پہنچ چکا ہے۔ کرناٹک حکومت نے کالجوں میں ڈریس کوڈ نافذ کرنے کا حکم جاری کیا ہے، جس کے تحت حجاب اور زعفرانی اسکارف پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی حجاب تنازع کو لے کر ٹویٹ کیا ہے۔ پرینکا نے بدھ کو ایک ٹویٹ میں کہا کہ چاہے وہ بکنی ہو یا نقاب یا جینز یا حجاب، خواتین کو یہ فیصلہ کرنے کا حق ہے کہ وہ کیا پہننا چاہتی ہیں۔










