ممبئی :(ایجنسی)
کرناٹک میں پیدا ہونے والا حجاب تنازع ابھی حل نہیں ہوا تھا کہ اسی دوران تلنگانہ سے ‘برقع تنازع ‘ منظر عام پر آ گیا ہے۔ لوگ اس معاملے پر اپنی رائے دے رہے ہیں۔ ہر معاملے پر اپنی رائے دینے والے معروف نغمہ نگار جاوید اخترنے اس معاملے پر بھی اپنا شدید ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے ایک ٹویٹ کیا ہے، جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ اس کی حمایت میں نہیں ہیں، لیکن لڑکیوں کو دھمکیاں دینے اور ڈرانے والے کی مذمت کرتے ہیں۔
جاوید اختر سوشل میڈیا پر کافی ایکٹیو رہتے ہیں اور ملک میں جاری مسائل پر اکثر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے پانچ ریاستوں میں ہونے والے انتخابات کے درمیان اچانک حجاب اور برقع تنازع پر ٹویٹ کر کے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔
قابل ذکر ہے کہ کرناٹک میں حجاب کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ میں جمعرات کو سماعت ہوئی۔ اس دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ ابھی ہم اس معاملے میں کیوں کوددیں۔ ہائی کورٹ کو پہلے فیصلہ کرنے دیں۔ اس معاملے میں وکیل کپل سبل نے سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے عرضی دی تھی۔ ان کی دلیل تھی کہ یہ معاملہ اب پورے ملک میں پھیل رہا ہے۔ امتحانات ہونے والے ہیں۔ ایسے میں اس معاملے کی سپریم کورٹ میں سماعت ہونی چاہیے۔ اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ اب ہائی کورٹ کو اس معاملے کی سماعت کرنے دیں۔ ہم دیکھیں گے کہ ہم آگے کیا کر سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں مزید سماعت کی تاریخ دینے سے بھی انکار کر دیا ہے۔










